مجھ پہ تقریباً ڈھائی لاکھ (250,000) کا قرضہ ہے ، لیکن اس کی ادائیگی کی کوئی جلدی نہیں ہے ، اُس کے علاوہ اپنے والد سے بھی قرضہ لیا ہوا ہے ، گاڑی کے لئے تقریباً پانچ (5) لاکھ ،اس کی ادائیگی کی بھی کوئی پابندی نہیں ہے ، میری بیوی کے پاس تقریبا نو(9) تولہ سونا ہے ، اس کی زکوۃ میں ادا کرتا ہوں ، تو مجھ پر ابھی زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟
سائل کی بیوی کے پاس موجود سونا چونکہ بقدر نصاب ہے ، لہذا اس کی زکوۃ بیوی پر ہی لازم ہے ، تاہم اگر سائل بیوی کی طرف سے اس کی اجازت سے زکوۃ ادا کرے تو کرسکتا ہے ، جبکہ سائل کی ملکیت میں بھی مذکور قرضے منہا کرنے کے بعد اگر بقدر نصاب اموال زکوۃ موجود ہو تو سائل پر زکوۃ لازم ہے ، ورنہ نہیں ۔
کمافی بدائع الصنائع: أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب،الخ ( ج2 ص 53 فصل زکاۃ الزروع والثمار ط سعید )۔
وفی البحر الرائق: (قوله وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا) لأنه - عليه الصلاة والسلام الخ ( ج 2 ص 208 شروط وجوب الزکاۃ ط ماجدیہ)۔