زکوۃ و نصاب زکوۃ

نکاح میں ملے ہوئے زیور کی زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71522
| تاریخ :
2024-03-07
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نکاح میں ملے ہوئے زیور کی زکوۃ کا حکم

میری بیٹی کی شادی اس سال فروری میں ہوئی ہے ،میں زکوٰۃ ہر سال رمضان میں دیتی ہوں میری بیٹی کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی ، نکاح ہوا ہے میں نے زیور اس کو دے دیا، اب جو زکوٰۃ میں رمضان میں نکالوں گی اس میں اپنی بیٹی کے زیور کی نکا لوں گی یا نہیں ؟ اور میری بیٹی تو اب اگلے سال فروری میں نکا لےگی زکوٰۃ ، تو اس کے زیور کی پھراس سال زکوٰۃ نکلےگی یا نہیں ؟ دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ میری ماسی کے پاس سونے کی ایک چین اور ایک بالی ہے جسکی مالیت دو لاکھ تک ہوگی میں اسکو زکوٰۃ دےسکتی ہو یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے بیٹی کے نکاح کے موقع پر جو زیورات باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ بیٹی کو دیدئے ہیں ، وہ زیورات اس بیٹی کی ملکیت بن چکے ہیں ، چنانچہ اب سائلہ کے ذمہ ان زیورات کی زکوۃ لازم نہیں البتہ اگر مذکور زیورات بقدر نصاب ہو یا سائلہ کی بیٹی پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو زکوۃ کا سال پورا ہونے پر سائلہ کی بیٹی کے ذمہ ان زیورات کی زکوۃ لازم ہوگی، جبکہ سائلہ کے ہاں کام کرنے والی مذکور لڑکی کے پاس اگر سونے کی بالیوں اور چین کے علاوہ ، چاندی ، نقدی اور ضروریات اصلیہ سے زائد کوئی چیز موجود نہ ہو، تو اسے زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وأما حكم الهبۃ (الی قولہ) أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض الخ(ج 6 ص 127 ط:سعید)۔
وفی الدر المختار:ای مصرف الزکاۃ(الی قولہ) (ھو الفقیروھو من لہ ادنی شیئ )ای دون نصاب او قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجۃ الخ(ج 2 ص 339 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71522کی تصدیق کریں
0     585
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات