- اگر میں کسی کو کچھ رقم ادھار دوں تو کیا مجھے اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ جبکہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ پیسے کب واپس آئیں گے ۔
2- جب میں زکوة کا حساب لگاتا ہوں، تو کیا میں وہ پیسے منہا کر سکتا ہوں جو بینک کو واپس کرنے ہیں، جیسے کہ بینک سے لیا گیا قرض؟
واضح ہو کہ قرض کے طور پر دی گئی رقم ملنے کی اگر امید ہو تو شرعاً اس رقم پر زکوۃ لازم ہوگی، جبکہ سائل کےذمہ بینک کا جوقرض ہے ، زکوة کا حساب کرتے وقت اس قرض کی سالانہ قسط یا وہ رقم جو فوری طور پر واجب الادا ہے، اس کے بقدر اپنے کل مال سے رقم منہا کی جاسکتی ہے ۔
كما فی الدر المختار: (ولا في مال مفقود) وجده بعد سنين (وساقط في بحر) استخرجه بعدها (ومغصوب لا بينة عليه) فلو له بينة تجب لما مضى إلا في غصب السائمة فلا تجب، وإن كان الغاصب مقرا كما في الخانية ( كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) (إلى قوله) (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) (كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أیضًا : (و) اعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثۃ : قویّ، ومتوسط وضعیف، (فـتجب) زکاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لکن لا فورا بل(عند قبض أربعین درہما من الدین) القویّ کقرض (وبدل مال تجارۃ) فکلما قبض أربعین درهما یلزمہ درہم الخ (كتاب الزكاة، ج۲، ص ۳۰۵، ط : سعيد)-
و في الفتاوى الهندیۃ : وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء (إلى قوله) ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة (إلى قوله) وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى (الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج 1، ص 175، ط : دار الفكر، بيروت)-