زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں کی ادائیگی کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71646
| تاریخ :
2024-03-12
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں کی ادائیگی کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم! میں نے ایک دکان بک کروائی قسطوں پر، اسکی آخری پیمنٹ مجھے مئی جون تک ادا کرنے کا کہا ہے بلڈر نے، وہ پیسے میں نے بچت کر کے بلڈر کو دینے کے لئے جمع کر لئے ہیں اور میرے اکاؤنٹ میں پڑے ہیں، دکان کو میرا ارادہ اپنے نام ہونے کے بعد کرایہ پر چڑھانے کا ہے،کیا ان پیسوں پہ جو میں نے دینے کے واسطے جمع کر رکھے ہیں، زکوۃ ادا کرنا ہو گی؟شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے قسط ادا کرنے کے لئے جو رقم اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اس رقم پرتو زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ مذکور قسط کی رقم کو منہا کرنے کے بعد اگر سائل کی ملکیت مین اتنا سونا، چاندی، نقدی یا مال تجارت موجود ہو جو نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) تک پہنچتا ہو تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی ،ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیہ: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة (الی قولہ) (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 172، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71646کی تصدیق کریں
0     1046
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات