زکوۃ و نصاب زکوۃ

چار تولہ سونے کے ساتھ نقدی بھی تو اس پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71659
| تاریخ :
2024-03-13
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

چار تولہ سونے کے ساتھ نقدی بھی تو اس پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم !
میرے پاس فکسڈ ڈپازٹ بینک اکاؤنٹ میں 4 تولہ سونا اور 6 لاکھ روپے ہیں۔ حال ہی میں کسی نے مجھے مذکور سونے پر زکوٰۃ ادا کرنے کا کہا جو کہ ڈھائی فیصد ہے اور رقم پر الگ سے دینے کو کہا اور اس شخص کے مطابق سونے کے نرخ چاندی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اس لئے آپ کا کل سونا موجودہ 52.5 تولہ چاندی کے برابر ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے روزانہ استعمال میں آنے والے 4 تولہ سونے اور 7 تولہ سے کم سونے کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیئے ؟ کیا میں صاحبِ نصاب ہوں ؟ براہ کرم میری رہنمائی کریں میں بہت پریشان ہوں۔ کیا زکوٰۃ صرف ان لوگوں پر واجب ہے کہ جن کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کسی کی ملکیت میں فقط سونا ہو اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں چاندی ، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود نہ ہو یا اس کے پاس فقط چاندی ہو ، اس کے علاوہ اس کے پاس سونا ، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں جب تک سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے تک نہیں پہنچتی تب تک اس پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی ، البتہ اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی دونوں موجود ہوں یا ان کے ساتھ نقدی اور مالِ تجارت میں سے بھی کچھ موجود ہو تو ایسی صورت میں جب ان اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوجاتی ہے ، لہٰذا سائلہ کے پاس اگرچہ سونا ساڑھے سات تولہ کی مقدار سے کم ہے لیکن اس کے ساتھ اس کی ملکیت میں چونکہ نقد رقم بھی موجود ہے ، جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ کر اس سے زیادہ بنتی ہے ، اس لئے سائلہ کے ذمہ نقدی کے ساتھ مذکور سونے کی بھی زکوٰۃ لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ( وسببه ) أي سبب افتراضها ( ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) الخ۔ ( کتاب الزکوٰۃ ، ج۲ ، ص۲۵۹، ط۔سعید )۔
و فی الھندیۃ : وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز الخ۔ ( کتاب الزکوٰۃ ، ج۱ ، ص۱۷۹ ، ط۔ماجدیہ )۔
و فی بدائع الصنائع : ( فصل ) أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم ( إلی قولہ ) وأما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم، وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئا ( کتاب الزکوٰۃ ، فصل الأثمان المطلقہ ، ج۲ ، 17، ط۔دارالکتب العلمیہ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71659کی تصدیق کریں
0     928
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات