زکوۃ و نصاب زکوۃ

لوگوں کے ذمے قرضوں پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
72189
| تاریخ :
2024-03-29
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

لوگوں کے ذمے قرضوں پر زکوٰۃ کا حکم

السلام علیکم !
30 جون 2018کو میں نے اپنا مکان اپنے بیٹے کو فروخت کیا جس کی رقم ایک کروڑ اسی لاکھ طے پائی۔اس رقم میں سے میں نے ایک کروڑ بطورِ وراثت اپنے چاروں بچوں (دو بیٹے اور دو بیٹیوں) کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔اور بقیہ اسی لاکھ سے اپنے رہنے کے لئے مکان خریدنے کا ارادہ کیا۔ جس بیٹے کو میں نے مکان فروخت کیا اس نے مجھے ایک کروڑ تیس لاکھ ادا کردیے اور بقایا پچاس لاکھ کے لئے مہلت مانگ لی ۔ ایک کروڑ تیس لاکھ میں سے میں نے دونوں بیٹوں کو وراثت کی رقم دے دی اور اپنے رہنے کے لئے مکان خرید لیا۔اور بیٹیوں سے تھوڑا وقت طلب کرلیا۔ پچاس لاکھ کی رقم میرا بیٹا مجھے قسطوں میں دیتا رہا اور میں اپنی بیٹیوں کو دیتا رہا ۔ 2023میں میں نےمکمل رقم اپنی بیٹیوں کو دے دی، لہذا سوال یہ ہے کہ جب تک پچاس لاکھ کی رقم ان کے ورثا ء تک نہیں پہنچی تھی تب تک اس کی زکوۃ کون ادا کرے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہو (جیساکہ سوال سے ظاہر ہو رہا ہے) تو زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر سائل کے ذمہ دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ بیٹے کے ذمہ واجب الوصول رقم کی زکوۃ بھی لازم تھی ، لہذا اگر سائل نے اس واجب الوصول رقم کی گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہو، تو اسکی ادائیگی بھی سائل کے ذمہ ہی لازم ہوگی، البتہ ادائیگئِ زکوۃ کی تایخ سے قبل وصول ہونے والی رقم جو سائل اپنی اولادوں میں تقسیم کرچکا ہو، اسکی زکوٰۃ سائل کے ذمہ لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) (الی قولہ) فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) وسنفصل الدين في زكاة المال (ج:2ص:266 ط: سعید)۔
وفی تنویر الابصار: (وسببه ملك نصاب حولي فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد (و) (عن حاجته الاصلية نام لو تقديرا (ج:2ص:259-263 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72189کی تصدیق کریں
0     778
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات