زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے میں گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
72704
| تاریخ :
2024-04-25
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے میں گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام صورتِ مسؤلہ کے بارے میں کہ میری والدہ کے پاس آج سے تقریبا 35 سال پہلے پونے 7 تولہ سونا تھا جو دس سال تک میری والدہ کے پاس تھا، ،اس کے بعد میری والدہ نے اس میں سے 6تولہ سونا فروخت کر دیا کسی ضرورت کے لئے ، ان دس سالوں میں والدہ نے اس سونے کی زکوٰۃ ادا نہیں کی،اب الحمداللہ میری والدہ ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھ رہی ہیں ایک معلمہ صاحبہ سے بنات کے مدرسے میں ، تو اب والدہ کو فکر لاحق ہو گئی ہے ان گزرے ہوئے 10 دس سالوں کی زکوٰ ۃ کی , تو میری مفتیان کرام کے خدمت میں گزارش ہیکہ اب اگر والدہ گزرے ہو ئے سالوں کی زکوٰ ۃ جب ادا کرے تو اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا آج کی قیمت کا ، آج سے 35 سال قبل جو قیمت تھی بقول والدہ کے 3 ہزار روپے فی تولہ تھا ، براہ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کیجئے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کی ملکیت میں مذکور پونے سات تولہ سونے کیساتھ اگر تھوڑی بہت نقدی موجود تھی (جیسا کہ عموماً ہو تا ہے ) اور مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر تھی تو ایسی صور ت میں سائل کی والدہ پر زکوٰۃ واجب تھی ، لہذا گزشتہ دس سالوں کی زکوٰۃ ادا کر نا ان پر لازم ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آج کی مارکیٹ ویلیوکے مطابق پونے سات تولہ سونے کی قیمت معلوم کر کے اس کا ڈھائی فیصد حصہ الگ کیا جا ئے ، اس کےبعد جو مال بچ جائے اس کا ڈھائی فیصد الگ کیا جائے، اسی طرح گزشتہ دس سالوں کی زکوٰۃ اسی ترتیب پر نکالی جائے -

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع : فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا (الی قولہ) وأما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنى فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولا يعتبر اختلاف الصورة(فصل مقدارالواجب فی الزکاۃ الذھب ج 2 ص19 ط:دارالکتب العلمیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم(کتاب الزکاۃ ج2 ص7 ط:دارالکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72704کی تصدیق کریں
0     648
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات