میں نے ایک ادارے میں ملازمت کا آغاز کیا، جس کے شروع میں کمپنی نے میرے ساتھ ایک معاہدہ کیا، اس معاہدے کی رو سے اگر میں ایک مخصوص مدت سے پہلے ملازمت چھوڑتا ہوں، تو مجھے کچھ رقم کمپنی کو ادا کرنی پڑے گی، میں نے معاہدہ کرتے وقت یہ سوچا تھا کہ کچھ وقت کیلئے ہی کام کروں گا، اور اس کے بعد رقم ادا کر کے ملازمت چھوڑ دونگا، اوراس مقصد کے لئے رقم بھی جمع کر لی، اب سوال یہ ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ کرنا جائز بھی ہے یا نہیں؟ اور دوم کہ جو رقم مخصوص کی ہوئی ہے، اس کو بھی زکوۃ کے نصاب میں شامل کیا جائیگا؟
سائل اور مذکور کمپنی کا سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق معاہدہ کرنا شرعاً جائز نہیں تھا،چنانچہ اب مخصوص مدت سے قبل ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے سائل کے ذمہ اس معاہدہ کی وجہ سے شرعاً رقم کی ادائیگی لازم نہیں، تاہم جب سائل نے کمپنی کے ساتھ مخصوص مدت تک کام کرنے کا معاہدہ کیا ہے تو سائل کے ذمہ اس معاہدے کی پاسداری کرنا لازم وضروری ہے،اور بغیر کسی عذر کے اس معاہدے کی مخالفت شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائل نے جو رقم حسبِ معاہدہ کمپنی کو دینے کیلئے جمع کر رکھی تھی،اگر وہ بقدرِ نصاب ہو یا سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہوتو زکوۃ کی تاریخ پر سائل کے ذمہ اس رقم کی بھی زکوۃ لازم اور ضروری ہوگی۔
کما فی اعلاء السنن : التعزیر بالمال جائز عند ابی یوسف، وعندھما وعند الائمۃ الثلاثۃ لا یجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ، وأما القرآن فقولہ تعالیٰ (فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم) وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الاصول فقد أجمع العلماء علی من استھلک شیئاً لم یغرم الا مثلہ أو قیمتہ الخ ( باب التعزیر بالمال، ج11، ص733،ط: بیروت)۔
وفی الدر المختار: ( لا یأخذ مال فی المذھب ) بحر: وفیہ عن البزازیۃ: وقیل یجوز ومعناہ أن یمسکہ مدۃ لینزجر ثم یعیدہ لہ فإن أیس من توبتہ صرفہ الی ما یری وفی المجتبی أنہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ لا یأخذ مال فی المذھب ) قال فی الفتح وعن أبی یوسف یجوز التعزیر للسلطان بأخذ مال وعندھما وباقی الائمۃ الثلاثۃ لا یجوز، ومثلہ فی المعراج وظاھرہ أن ذالک روایۃ ضعیفۃ عن أبی یوسف، قال فی الشرنبلالیۃ ولا یفتی بھذا لما فیہ من تسلیط الظلمۃ علی أخذ مال الناس فیأکلونہ ومثلہ فی شرح الوھبانیۃ عن ابن وھبان الخ ( باب التعزیر، ج4، ص61، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ : (ومنھا کون المال نصاباً) فلا تجب فی أقل منہ ھکذا فی العینی شرح الکنز الخ ( کتاب الزکاۃ ، ج 1 ، ص 172 ، ط : ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً : والموسر فی ظاھر الروایۃ من لہ مائتا درھم أو عشرون دیناراً أو شیئ یبلغ ذالک سوی مسکنہ ومتاع مسکنہ ومرکوبہ وخادمہ الخ ( ج ، 5 ، ص 292 ، ط : ماجدیۃ)۔