کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق کہ :
زید نے نومبر ۲۰۲۲ میں اپنے حالات بتاکر دارالافتاء دارالعلوم کراچی سے سوال کیا اور جواب میں دارلافتاء دارالعلوم کراچی نے دسمبر ۲۰۲۲ میں فتوی جاری کیا کہ زید زکوۃ لے سکتا ہے (فتوی ساتھ لف ہے) ۔
اب مسئلہ یہ پیش آگیا ہے کہ مارچ ۲۰۲۴ میں زید اپنے کمرے کا دراز چیک کررہا تھا کہ زید کو دراز کے آخر میں کونے سے ایک پوٹلی ملی جس میں سونا نکل آیا، جس وقت نومبر ۲۰۲۲ میں زید نے دارالافتاء دارالعلوم کراچی سے فتوی لیا اس وقت زید کے علم میں بالکل بھی نہیں تھا کہ زید کے پاس اسکی فوت شدہ والدہ کی طرف سے سن ۲۰۲۴ میں سونا ہدیہ دیا ہوا پوٹلی میں پڑا ہے، زید نے دارالافتاء دارلعلوم کراچی کے فتوی کے مطابق دوست احباب اور دیگر لوگوں سے دسمبر ۲۰۲۲ سے ماہانہ کی بنیاد پر زکوۃ وصول کرنی شروع کردی ، اور استعمال کی اور آج تک ہر ماہ لوگوں کی طرف سے زکوۃ وصول کررہا ہے اور استعمال کررہا ہے ۔اب تک لاکھوں روپے وصول کرچکا ہے اور استعمال بھی کرچکا ہے۔
زید نومبر ۲۰۲۲ میں دارالافتاء دارالعلوم کراچی کو حالات بیان کرتے ہوئے یہ بتانا بھول گیا کہ زید نے لوگوں کا انچاس لاکھ(4900000) کا قرضہ واپس بھی کرنا ہے ۔ زید کو جیسے ہی اس ماہ (مارچ ۲۰۲۴) اپنی ماں کی طرف سے دیا ہوا سونا دراز سے ملا ، زید نے سارا سونا فورا مارکیٹ جاکر نو لاکھ(900000) کا فروخت کردیا ۔ اس وقت زید کے پاس نو لاکھ (900000)موجود ہیں ۔ اور ساتھ ہی ساتھ مارچ ۲۰۲۴میں لوگوں کی طرف سے دیے گیے زکوۃ کے پیسے بھی , زید نے آج بھی (مارچ ۲۰۲۴)میں لوگوں کا بیالیس لاکھ(4200000) قرضہ واپس کرنا ہے ۔
سوال:
۱: زید نے دسمبر ۲۰۲۲سے مارچ ۲۰۲۴تک لوگوں سے تقریبا آٹھ لاکھ (800000)زکوۃ وصول کی ہے، اور یہ رقم استعمال بھی کی ہے، کیا یہ ساری زکوۃ زید نے غلط وصول کی ہے یا صحیح ؟
۲: کیا زید کو زکوۃ کے پیسے سب لوگوں کو واپس لوٹانے ہونگے؟ اگر ہاں، تو کیا زید یہ سارے پیسے لوگوں کو واپس لوٹانے کی بجائے اس وقت جو مستحق زکوۃ بندہ زید کو ملے اسے سارے پیسے دیدے؟
۳: اگر زید نے زکوۃ کے پیسے صحیح وصول کیے ہیں تو کیا زید اس وقت نو لاکھ (900000)قبضہ میں ہونے کے باوجود لوگوں سے مزید زکوۃ وصول کرسکتا ہے؟ کیونکہ زید نے اس وقت لوگوں کا بیالیس لاکھ کا قرضہ واپس کرنا ہے؟
۴: اگر زید نے لوگوں سے زکوۃ وصول کی ہے ، تو کیا زید نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے؟ زید نے اپنی بیوی اور بچوں کا پیٹ حرام سے پالا؟ اور اس حرام مال کی نحوست ساری زندگی رہے گی؟ جبکہ زید نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔
۱، ۲، ۳، ۴: واضح ہو کہ اگر کسی شخص پر اتنا قرضہ ہو کہ قرض کی رقم اسکے پاس موجود تمام مالیت سے زائد ہو ، یا اگر قرض کی رقم اسکے پاس موجود مالیت سے منہا کی جائے تو اسکے پاس بقدرِ نصاب مال (سونا ، چاندی، مال تجارت ، نقدی اور حاجات اصلیہ سے زائد اشیاء) باقی نہ رہے، اور وہ سید بھی نا ہو، تو شرعاً وہ مستحقِ زکوۃ ہے ، اس کیلئے زکوۃ کی رقم از خو د کسی سے طلب کرنا تو شرعاً جائز نہیں البتہ اگر کوئی شخص اسکی حالت پر مطلع ہوکر اسکو زکوۃ کی رقم دیدے تو اس سے اس شخص کی زکوۃ بھی ادا ہوگی اور مستحقِ شخص کیلئے اس رقم کالینا بھی شرعاً جائز ہوگا ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا سوال اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طورپر کہ زید ۲۰۲۲ میں بھی انچاس لاکھ کا مقروض تھا اور اب تک وہ بیالیس لاکھ کا مقروض ہے اور اس دوران زید کے پاس اتنی رقم بھی نہیں آئی کہ اگر قرض کی مذکور مالیت کو منہا کیا جاتا تو وہ نصاب کا مالک بن جاتا اور نہ ہی ابھی والدہ کی طرف سے بطورِ ہدیہ ملے ہوئے سونے کی قیمت سمیت سائل کے پاس حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ اتنی مالیت موجود ہے کہ قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد وہ صاحب نصاب بن جائے تو اسکی وجہ سے زید ۲۰۲۲ سے اب تک مسلسل مستحقِ زکوۃ رہا ہے ، اور اس دوران اس نے جو بھی زکوۃ کی مد میں رقم وصول کی ہے ، وہ درست وصول کی ہے اور اس کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ بھی نہیں ہے ۔
في الهداية في شرح بداية المبتدي ـ دار إحياء التراث العربي : " ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه " وقال الشافعي رحمه الله تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة " وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا " لفراغه عن الحاجة والمراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة ودين الزكاة مانع حال بقاء النصاب لأنه ينتقص به اه (1/95)
و في فتح القدير لابن الهمام ـ مكتبة مصطفي البابي الحلبي بمصر: (قوله ولنا أنه مشغول) يتضمن تسليم أنه نصاب تام لأنه مرجع ضمير أنه ثم منع استقلاله بالحكم بإبداء انتفاء جزء العلة بادعاء أن السبب النصاب الفارغ عن الشغل أو إبداء المانع على تقدير استقلاله على قول مخصصي العلة وإنما اعتبرنا عدم الشغل في الموجب لأن معه يكون مستحقا بالحاجة الأصلية وهو دفع المطالبة والملازمة والحبس في الحال والمؤاخذة في المآل، إذ الدين حائل بينه وبين الجنة، وأي حاجة أعظم من هذه فصار كالماء المستحق العطش وثياب البذلة، وذلك معتبر معدوما حتى جاز التيمم مع ذلك الماء ولم تجب الزكاة وإن بلغت ثياب البذلة نصبا اه (2/161)