زکوۃ و نصاب زکوۃ

کئی سالوں کے بعد ملنے والے قرض کی زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
73415
| تاریخ :
2024-05-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کئی سالوں کے بعد ملنے والے قرض کی زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں ؟

مفتی صاحب ! میں نے کچھ لوگوں کو بطور قرض اور تجارت کے لئے پیسے دیئے ہیں ، بہت عرصہ ہو گیا وہ مجھے رقم واپس نہیں کر رہے ہیں اور پیسے نہ ملنے پر میرا کاروبار بند ہے ، فیملی کو چلانے کے لئے بہت قرض ہو گیا ہے ، اس لئےمذکوررقم کی زکوۃ گزشتہ کئی سالوں میں ادانہیں کر سکا ، اب کئی سالوں کے بعد اگر کوئی بندہ مجھے رقم واپس کرے اور میں اس کی زکوۃ ادا کروں تو بہت سال کی زکوۃ جمع ہوجانے کی بنیاد پر بہت زیادہ رقم دینی پڑیگی ، جبکہ میں اگر گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کروں تو رقم کا بڑا حصہ ختم ہوجائے گا، اور میں خسارے میں ہوں ، تو ایسی صورت میں میری مذکور رقم کی زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت کیا ہوگی؟ اگر ساری رقم کا حساب لگا کر ایک سال کی زکوٰۃ ادا کر نے کی نیت کرلوں تو کیا یہ ادا ہوگی؟ فی الحال میرا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ، زکوٰۃ ادا کرنے کا کوئی بند و بست نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اصولی طور پر جن قرضوں کے ملنے کی امید ختم نہ ہوئی ہو تو شرعاً ان قرضوں کے ملنے کے بعد اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کو جب اس کے قرضے مل گئے تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ، صرف ایک سال کی زکوۃ کی ادائیگی سے سائل برئ الذمہ نہ ہوگا ، جبکہ پچھلے سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ ملنے والی رقم سے پہلے سال کی زکوۃ ڈھائی فیصد کے اعتبار سے منہا کی جائے، اس کے بعد اگلے سال کی زکوۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگائے، پھر اس سے اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دوسالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کرکے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح ہرسال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی مقدار منہا کرکے زکوۃ دیدے ، جبکہ اگر ایک ساتھ زکوۃ دینے میں سخت دشواری ہو تو وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی کرکے بھی زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ، تاہم جتنا ہو سکے زکوۃ کی ادائیگی کا جلد از جلد اہتمام کرناچاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار: (ولا في مال مفقود) وجده بعد سنين (‌وساقط ‌في ‌بحر) استخرجه بعدها (ومغصوب لا بينة عليه) فلو له بينة تجب لما مضى إلا في غصب السائمة فلا تجب، وإن كان الغاصب مقرا كما في الخانية ( كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) (إلى قوله) (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) ( كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أیضًا : (و) اعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثۃ : قویّ، ومتوسط وضعیف، (فـتجب) زکاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لکن لا فورا بل(عند قبض أربعین درہما من الدین) القویّ کقرض (وبدل مال تجارۃ) فکلما قبض أربعین درهما یلزمہ درہم۔ الخ ( كتاب الزكاة، ج۲، ص ۳۰۵، ط : سعيد)-
و في الفتاوى الهندیۃ : وأما سائر ‌الديون ‌المقر ‌بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء (إلى قوله) ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة (إلى قوله) وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى ( الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج 1، ص 175، ط : دار الفكر، بيروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73415کی تصدیق کریں
0     955
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات