زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم کو زکوۃ کی مد میں تصور کرسکتے ہیں ؟

فتوی نمبر :
73638
| تاریخ :
2024-06-03
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم کو زکوۃ کی مد میں تصور کرسکتے ہیں ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میری گذارش یہ ہے کہ میں نے ایک شخص کو کاروبار کے لئے کچھ رقم دی تھی۔ اس وقت سال 2016تھا اور مہینہ جنوری کاتھا ۔ اس شخص نے جنوری 2016سے جولائی 2019 تک مجھے اس رقم پر طے شدہ منافع بھی ادا کیا۔ جولائی 2019 کے بعد وہ شخص لاپتہ ہوگیا اور آج تک اس کا کوئی پتہ بھی نہیں ہے ۔ میری رقم کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سارے لوگوں کی رقم اس پر واجب الادا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری جو رقم اس نے ادا کرنی ہے اس رقم کو میں زکوۃ کی مد میں تصور کر سکتاہوں یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوۃ کی صحت و درست ادائیگی کی شرائط میں سے ایک شرط زکوۃ کی رقم کسی مستحق کو زکوۃ کی نیت سے ہی مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کرنا بھی ہے۔ جبکہ کاروبار کے لئے دی گئی رقم میں زکوۃ کی نیت نہیں کی جا سکتی۔ لہذا سائل کا کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم کو زکوۃ کی مد سے منہا کرنا درست نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے اس کی زکوۃ درست ادا ہوگی ۔ البتہ اگر یہ رقم اس طور پر ڈوب گئی ہو کہ لینے والے کا کچھ پتہ نہ ہو اور اس سے اب اس رقم کے ملنے کی کوئی امید ہی نہ رہی ہو ،تو ایسی صورت میں تجارت میں لگائی گئی اس رقم کی زکوۃ نکالنا شرعاً سائل پر لازم نہ ہو گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: و أداء الدین عن العین و عن دین سیقبض لا یجوز إلخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ و اعلم ) المراد بالدین ما کان ثابت فی الذمۃ من مال الزکوۃ و بالعین ما کان قائماً فی ملکہ ( إلی قولہ ) و فی صورتین لا یجوز : الأولیٰ أداء الدین عن العین کجعلہ ما فی ذمہ مدیونہ زکاۃ لمالہ الحاضر إلخ ( کتاب الزکوۃ ، ج 2، ص 270، ط سعید )-
و فی البحر: ( قولہ و شرط أدائھا نیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بکلہ ) بیان لشرط الصحۃ فإن شرائطھا ثلاثۃ أنواع شرائط وجوب وھی ما ذکرہ إلا الحول فإنہ من شرط وجوب الأداء بدلیل جواز التعجیل قبلہ بعد وجوب السبب ، و أما النیۃ فھی شرط الصحۃ لکل عبادۃ کما قدمناہ و قد علمت من قولہ أولا للہ تعالیٰ لکن المراد ھنا بیان تفاصیلھا و الأصل اقترانھا بالأداء کسائر العبادات إلخ (کتاب الزکوۃ ، ج 2، ص 210 ، مکتبۃ الماجدیۃ )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73638کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات