محترم مفتی صاحب! زکوٰۃ کے بارے میں چند مسائل درج ذیل ہیں، براہِ مہربانی انکا مفصل جواب عنایت فرمادیں: (۱) ایک ایسا طالبعلم ہے جو انجینئرنگ کالج / میڈیکل کالج وغیرہ میں پڑھتا ہے اس کے والد صاحب ایک اسکول ٹیچر اور صاحبِ نصاب ہیں اس کے علاوہ بھی ان کے تین نابالغ بیٹے بیٹیاں ہیں جو سب زیر تعلیم ہیں یہ طالبعلم بالغ ہے اور اس کے نام کوئی، سونا چاندی وغیرہ نہیں، اس کے والد اس کو کپڑے، جوتے وغیرہ لے کر دیتے ہیں اور اس کے کھانے پینے کی ضروریات وغیرہ بھی پوری کردیتے ہیں، کیا ایسے طالبعلم کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے؟ تاکہ اسک ے والد صاحب کا بوجھ ہلکا ہوسکے اور وہ باقی نابالغ بچوں کے تعلیمی اخراجات آسانی سے پوری کرسکیں۔
(۲) کیا زکوٰۃ کی ایک کافی بڑی رقم (ساٹھ ستر ہزار روپے) ایک ہی مرتبہ اس طالبعلم کو دی جاسکتی ہے؟ تاکہ وہ طالبعلم اس رقم کو بینک میں رکھ لے اور اپنی ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً کئی سال تک خرچ کرتا رہے، یہ بھی فرمائیں کہ کیا وہ طالبعلم زکوٰۃ کی یہ رقم تعلیمی اخراجات کے علاوہ اپنی دوسری ضروریات مثلاً کپڑا جوتا کیلئے بھی خرچ کرسکتا ہے؟
(۳) ایک شخص رمضان کی پہلی تاریخ کو زکوٰۃ کی رقم نکال کر اسی مہینے مستحقین میں تقسیم کردیتا ہے، اگر اس رقم کو مقررہ وقت پر الگ کرکے گھر میں یا بینک میں اس طرح رکھا جائے کہ اس کا زکوٰہ ہونا واضح ہو، اُسے فوراً خرچ نہ کیا جائے بلکہ جب کبھی ضرورت ہو اُسے صرف مستحق طلباء کو دیا جائے چاہے یہ رقم کئی سال تک پڑی رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید زکوٰۃ کی رقم اس میں شامل کردی جائے یعنی یہ ایک زکوٰۃ فنڈ کی سی شکل بن جائے لیکن اس فنڈ کو نہ تو کہیں رجسٹر کروایا جائے نہ ہی اس کیلئے کوئی باقاعدہ کمیٹی ہو بلکہ اس کا انتظام کرنے والا وہ شخص ہو، البتہ اس کے زکوٰۃ ہونے میں کوئی شبہ نہ ہو مثلاً بینک کی چیک بک پر لکھ دیا جائے کہ یہ اکاؤنٹ صرف زکوٰۃ کی رقم کیلئے ہے، جو صرف مستحق طلباء کے لئے ہے، براہِ مہربانی فرمائیں کہ کیا زکوٰۃ کی یہ صورت جائز ہے؟
مذکور طالبعلم اگر واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہو تو زکوٰۃ کی رقم سے اس کا تعاون کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ اُسے ایک ساتھ اتنی زائد رقم دے دینا جو بقدرِ نصاب ہونے کی وجہ سے خود اس طالبعلم کو صاحبِ نصاب بنادے مکروہ ہے اس لئے اُسے یکمشت دینے کی بجائے بقدر ضرورت رقم دینے کا اہتمام چاہئے اسی طرح زکوٰۃ کی رقم علیحدہ رکھ کر دورانِ سال اس میں سے بوقتِ ضرورت مختلف ضرورتمند اور فقراء کو دینا جائز اور درست ہے، تاہم اس کا اہتمام رکھنا ضروری ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہوکر عند اللہ مجرم نہ بن جائے، اور اگر اس سلسلہ میں اس عمل کو بجائے وسعت دینے اور دوسروں سے بھی مالِ زکوٰۃ لیکر مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری لینےکے اُسے اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی تک ہی محدود رکھا جائے تویہ زیادہ محتاط طرزِ عمل ہے جس میں دوسروں کی عبادت کے بوجھ سے نجات ہے۔
فی الھندیة: ویجوز دفعھا الٰی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبا کذا فی الزاھدی (إلی قولہ) ولو کان کبیرًا فقیرًا جاز. الخ (ج۱، ص۱۸۹)
وفیھا ایضًا ویکرہ أن یدفع الٰی رجل مائتی درھم فصاعدًا وإن دفعہ جاز کذا فی الھدایة. (ج۱، ص۱۸۸)
وفیھا ایضًا وأما شرط ادائھا فنیة مقارنة للاداء أو لعزل ما وجب ھکذا فی الکنز فاذا نوی أن یؤدی الزکاة ولم یعزل شیئا فجعل یتصدق شیئًا فشیئًا الٰی أخر السنة ولم تحضر النیة لم یجز عن الزکاة کذا فی التبیین. الخ (ج۱، ص۱۷۰) واللہ اعلم بالصواب