زکوۃ و نصاب زکوۃ

مرحوم بھائی کا قرضہ اتارنے کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
73772
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مرحوم بھائی کا قرضہ اتارنے کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (میرا بھائی زلزلہ میں فوت ہوچکا ہے اور اس کی بیوی بھی، دو یتیم بچے ہیں ایک لڑکا ۱۰ سال کا اور ایک لڑکی ۸ سال کی ہے) ذاتی ہماری کوئی جائیداد نہیں، والد صاحب مرحوم کےچچا کی جگہ پر ہم رہتے ہیں ہم سے کرایا وغیرہ کچھ نہیں لیتے بھائی کے ذمہ لوگوں کا قرض ہے، اب قرضہ والے مجھ سے قرضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں، میرا بھی اپنا کوئی خاص معقول کاروبار نہیں ایک بھائی کے ساتھ تقریباً سوا لاکھ روپے کی شراکت سے کاروبار شروع کر رکھا ہے، میرے ذمے زلزلہ سے پہلے لوگوں کا قرض تقریباً چار لاکھ سے اوپر ہے ہم کاروبار وغیرہ کرتے تھے زلزلہ میں سب کچھ ختم ہوگیا میرا اور بھائی کا اپنا اپنا کاروبار تھا اب پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے بھائی کا قرض ایک دوست سے زکوٰۃ کے مال سےلیکر ادا کرسکتا ہوں؟ میں خود تقریباً چار لاکھ کا مقروض ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل خود اور مرحوم بھائی کی اولاد اگر واقعۃً مقروض ہونے کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ ہوں تودوست سے زکوٰۃ کا مال لیکر اپنا اور اپنے مرحوم بھائی کا قرض ادا کرنا شرعاً جائزاوردرست ہے۔تاہم اگرخودیابھائی کی اولادمستحق زکوٰۃ نہ ہوتومرحوم بھائی کے قرض کی ادائیگی کے لیے اس کے نام پرزکوٰۃ لینادرست نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر: (ومدیون لا یملک نصابا فاضلا عن دینہ) وفی الظھیریة: الدفع للمدیون أولی منہ للفقیر .... وفی الشامیة: قال والغارم من لزمہ دین... (قولہ أولی منہ للفقیر) أی أولی من الدفع للفقیر الغیر المدیون لزیادة احتیاجہ. (ج۲، ص۳۴۳)
وفیہ ایضا: أن الحیلة أن یتصدق علی الفقیر ثم یأمرہ بفعل ھذہ الاشیاء. (ج۲، ص۳۴۵)
وفی الشامیة: وحیلة التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن. (ج۲، ص۲۷۱) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73772کی تصدیق کریں
0     652
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات