زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے بھتیجی کو جہیز کا سامان لیکر دے سکتے ہیں ؟

فتوی نمبر :
73775
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے بھتیجی کو جہیز کا سامان لیکر دے سکتے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو بھائی ہیں ان میں سے چھوٹا بھائی بالکل غریب اور مفلس ہے اور بڑا بھائی صاحبِ ثروت اور مالدار ہے اس کے سال کی کافی زکوٰۃ بنتی ہے اب چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہتا ہے کہ میری بیٹی کی شادی ہے میں خود اس کیلئے جہیز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا لہٰذا برادری میں میری عزت رکھنے کیلئے آپ اپنے زکوٰۃ میں سے ڈھائی لاکھ کا جہیز میری بیٹی کو خرید کر دے دیں، تو بڑا بھائی اس پر رضا مند ہوگیا۔
اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ بڑے بھائی کا اس طرح جہیز خرید کر زکوٰۃ کےمال میں سے دینا درست ہے یا نہیں؟ اور ایسا کرنے سے ان کی زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہونےکی صورت میں مالِ زکوٰۃ سے، اسے سامان جہیز وغیرہ دینا بھی درست ہے، مگر محض برادری میں ناک رکھنے کی غرض سے اتنی بھاری مقدار میں مالِ زکوٰۃ کو رسم و رواج میں خرچ کرنا قطعاً مناسب نہیں، مذکور بھائی اگر واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہے تو اُسے چاہئے کہ اس طرح کی فضولیات میں نہ پڑے بلکہ اصولِ شرعیہ کے موافق سادگی کے ساتھ شادی کرے اور بچی کو اچھی تربیت دے کہ یہی چیز کام آنے والی ہے، اسی طرح مذکور صاحبِ وسعت بھائی کو بھی چاہئے کہ قرابت داری کو مد نظر رکھتے ہوئے، بجائے زکوٰۃ دینے کے محض عطیہ وغیرہ کے مال سے اپنی بھتیجی کو سامانِ جہیز دے دے، خواہ وہ ایک نارمل اور متوسط درجہ کا ہی کیوں نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة: وقید بالولاد لجوازہ لبقیة الأقارب کاالاخوة والاعمام والاخوال والفقراء بل ھم أولی لأنہ صلة وصدقة. اھـ (ج۲، ص۳۴۶) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ مرغوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73775کی تصدیق کریں
0     579
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات