کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں حاجی ۔۔۔۔ٹھیکیدار اللہ کو حاضر وناظر جان کر یہ تحریر کرتا ہوں کہ میرے گھر میں سونا چاندی، ٹی وی اور کوئی قیمتی چیز نہیں ہے اور حاجتِ اصلیہ سے سے زائد سامان بھی نہیں ہے اور نہ میں سید ہوں، کاروبار میں نقصان کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہوں جن لوگوں کی رقم ادا کرنی ہے وہ بہت پریشان کررہے ہیں، میرے پاس بندوبست ہو نہیں رہا ہے، کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم لیکر قرض ادا کرسکتا ہوں اور کیا زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
سوال میں درج تفصیل اگر واقعۃً بھی درست ہو تو اس صورت میں سائل مستحقِ زکوٰۃ ہے اور اس کیلئے زکوٰۃ کی رقم وصول کرکے قرضوں کی ادائیگی سمیت اپنے دیگر مصارف میں استعمال کرنا جائز ہے اور اسی طرح جو لوگ زکوٰۃ کی مد میں سائل کی مدد کریں گے ان کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی۔
کما فی الدر المختار: باب المصرف ای مصرف الزکاة والعشر (الی قولہ) (وھو فقیر وھو من لہ ادنی شیٔ) ای دون نصاب او قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة (الی قولہ) (ومدیون لا یملک نصابا فاضلا عن دینہ) وفی الظھیریة الدفع للمدیون اولٰی منہ للفقیر. الخ (ج۲، ص۳۳۹ – ۳۴۳) واللہ اعلم