کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) آج کل تاجر لوگ مارکیٹ سے عام طور پر مال ادھار پر اٹھاتے ہیں اور ہم بھی ایسا ہی کیا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے کا ہمارا طریقہ یہ رہا ہے کہ سال ختم ہونے کے بعد ہم حساب کتاب کرکے واجب الاداء قرضہ وغیرہ کو منہا کرکے بقیہ پر جو بھی زکوٰہ بنتی ہے وہ ہم ادا کرتے ہیں، اب ہمارے امام صاحب نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ ایک تو معمول کے مطابق مارکیٹ سے ادھار پر مال اٹھانے کا جو قرضہ ہے اس کو موجود رقم سے منہا نہیں کرنا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ مارکیٹ سے اُدھار پر جو مال اٹھائے گا اس مال کی زکوٰۃ بھی اس مال اُدھار پر اٹھانے والے کے ذمہ ہوگی۔
(۲) اور ایک مسئلہ امام صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر کوئی جائیداد، دوکان وغیرہ اس نیت سے خریدی گئی ہو کہ بعد میں اگر قیمت بڑھ جائے گی تو بیچوں گا اور اس پر نفع کماؤں گا تو ایسی دوکان اور جائیداد وغیرہ پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر خریدتے وقت یہ نیت ہو کہ خود استعمال کروں گا تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ہمارے امام صاحب نے جو مسائل بیان کئے ہیں یہ درست ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور دوسرا مسئلہ درست ہے بشرطیکہ اس مکان، جائیداد کو کرایہ پر دیکر یا ذاتی استعمال میں لانا شروع نہ کیا ہو جبکہ پہلی صورت میں اُدھار پر خریدے جانے والے مال کی زکوٰۃ قرض منہا کرنے کے بعد خریدار خود ادا کرے گا۔
وفی الدر: (وسببہ) أی سبب افتراضھا (ملک نصاب حولی) (إلی قولہ) (فارغ عن دین لہ مطالب من جھة العباد) اھـ (ج۲، ص۲۶۰)
وفیہ: (وما اشتراہ لھا) أی للتجارة (کان لھا) لمقارنة النیة لعقد التجارة (لا ما ورثہ ونواہ لھا) لعدم العقد إلّا إذا تصرف فیہ أی ناویا فتجب الزکوٰة لاقتران النیة بالعمل. (ج۲، ص۲۷۳) واللہ اعلم