کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دینی ادارہ ہے جس میں غیر رہائشی طلباء کرام تعلیم حاصل کرتے ہیں جس میں اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کا باقاعدہ کوئی انتظام کسی مخیر کی طرف سے نہیں اور یہ ادارہ ایک پسماندہ علاقہ و محلہ میں واقع ہے اب ایک صاحب اپنی زکوٰۃ کی رقم کو اس کی تعمیر میں خرچ کرنا چاہتا ہے اور اپنی خوشی اور خواہش سے اس کی تعمیر کرانا چاہتا ہے تو اس کی رقم کو اس ادارہ کی تعمیر میں خرچ کرنے کی شرعاً کیا صورت ہے؟ شرعی ضابطہ کے مطابق اس کا حل بیان کریں۔
اصل حکم یہ ہے کہ صدقاتِ واجبہ کے علاوہ دیگر صدقاتِ نافلہ اور عطیات کی رقوم سے مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کی جائے اور حتی الامکان اسی حکم کا پابند رہنا چاہئے کیونکہ صدقاتِ واجبہ اور زکوٰۃ کی رقوم کا اس مصرف میں لگانا جائز نہیں اور اس سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی اس لئے حتی الوسع زکوٰۃ کی رقم کو تعمیر بلڈنگ میں خرچ کرنے سے احتراز کرنا چاہئے تاہم ضرورتِ شرعیہ اور دینی مصلحت کے پیش نظر جبکہ کوئی دوسری رقم موجود نہ ہو تو اس کا التزام بہر صورت کرنا چاہئے کہ مذکورہ رقم کسی غریب مستحق شخص کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دی جائے پھر وہ شخص بغیر کسی جبر واکراہ کے اپنی مرضی و خوشی سے کچھ لے کر یا پوری رقم مدرسہ کے انتظامی ذمہ داروں کو بطورِ عطیہ دے دے اور اس طرح یہ رقم مذکورہ مد میں خرچ کی جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے مگر اس کو معمول بنالینے سے احتراز چاہئے۔
فی الھدایة: ولا یبنی بھا مسجد ولا یکفن بھا میت لا تعدام التملیک وھو الرکن. (ج۱، ص۲۰۵)
وفی الدر: وحیلة التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد. (ج۲، ص۲۷۱، ۳۴۵)
وفی البحر الرائق: قولہ لا الی ذمی ... وبناء مسجد وتکفین میت وقضاء دینہ وشراءقن یعتق بالجبر بالعطف علی ذمی والضمیر فی دینہ للمیت وعدم الجواز لإنعدام التملیک الذی ھو الرکن فی الاربعة .... والحیلة فی الجواز فی ھذہ الاربعة ان یتصدق بمقدار زکوٰتہ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذٰلک بالصرف الی ھٰذہ الوجوہ فیکون لصاحب المال ثواب الزکاة وللفقیر ثواب ھٰذہ القرب کذا فی المحیط. (ج۲، ص۲۴۳) واللہ اعلم بالصواب