زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر مستحق شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
73782
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر مستحق شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے ؟

ہماری کمپنی میں زکوٰۃ کی مد میں دو سوٹ کا کپڑا دیا جارہا ہے آپ سے اس کے متعلق چند سوالات ہیں۔
(۱) کیا مالک کا اس طرح سے زکوٰۃ دینا صحیح ہے کہ سب کو کہہ دیا کہ یہ زکوٰہ کا کپڑا ہے جس کو لینا ہے لے لے، دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مستحق اور غیر مستحق سب کپڑے لے رہے ہیں کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
(۲) کیا اس طرح غیر مستحق کا کپڑا وصول کرنا صحیح ہے اس کیلئے کیا حکم ہے۔
(۳) میں مستحق نہیں ہوں کیا میں یہ کپڑا مالک کی اجازت کے بغیر کسی ایسے آدمی کو دے سکتا ہوں جو اس کمپنی میں ملازمت نہیں کرتا جبکہ کپڑا صرف کمپنی کے مستحق ورکرز کیلئے ہے۔
(۴) انچارج کو پتہ ہے کہ یہ بندہ مستحق نہیں ہے پھر بھی انچارج پرچی بناکے دے دیتا ہے آیا انچارج کیلئے کیا حکم ہے۔
(۵) ایسا شخص جس کی تنخواہ ۸۰۰۰ سے ۱۵۰۰۰ کے درمیان ہے اپنا مکان ہے پورے مہینے کا گزارہ آرام سے ہوتا ہے، گاڑی ہے گھر میں ٹی وی، ضروریاتِ زندگی کا سامان ہے وہ بھی لے رہا ہے اس کیلئے کیا حکم ہے؟
(۶) زکوٰۃ کی کم از کم حد کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو شخص مستحقِ زکوٰۃ نہ ہو اس طور پر کہ وہ ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر مالِ تجارت یانقدی کا مالک ہو اور یہ اس کی روز مرہ کی گھریلو ضروریات سے بھی زائد ہو تو یہ شخص شرعاً زکوٰۃ لینے کا حقدار نہیں، اور اسے دینے سے زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی، جبکہ ادائیگی زکوٰۃ کیلئے کسی قسم کے کپڑے یا دیگر اموال وغیرہ کا دینا بھی جائز ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں جو لوگ زکوٰۃ لینے کے حقدار ہیں ان کا زکوٰۃ کی مد میں کپڑے وصول کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، جبکہ غیر مستحق نہ تو خود لے سکتا ہے، اور نہ ہی مالکان کی اجازت کے بغیر کسی دوسرےکیلئے لے سکتا ہے، انچارج کی اجازت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، نیز جو لوگ تھوڑی یا زیادہ تنخواہ لیتے ہیں اور وہ ان کی گھریلو ضروریات کیلئے ناکافی ہوتی ہے، یا وہ مقروض ہوں اور اس قرض کی ادائیگی کی کوئی ممکنہ صورت نہ ہو اور وہ صاحبِ نصاب بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں ان لوگوں کا مالِ زکوٰۃ لینا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الرد: اما لو تحری فدفع لمن ظنہ غیر مصرف او شک ولم یتحر لم یجز. (ج۲، ص۳۵۲)
وفیہ ایضًا: لو ادی زکاة غیرہ بغیر امرہ فبلغہ فاجاز لم یجز. ص۲۶۹)
وفیہ ایضًا: والحاصل ان النصاب قسمان موجب للزکاة وھو النامی .... وغیر موجب لہا وھو غیرہ، فان کان مستغرقا بالحاجة لمالکہ اباح اخذھا والا حرمہ. (ص۳۳۹) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الوحید جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73782کی تصدیق کریں
0     1293
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات