کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص جس کا نام ۔۔۔۔۔ہے وہ اپنی ۔۔۔سے بدترین سلوک کرتا ہے، (۱) خرچہ دینے میں (۲) کپڑے بنانے میں (۳) مارپیٹ سے بھی کام لیتا ہے (۴) بچے کی خواہش سے بھی روکتا ہے تاکہ نوکری میں حرج نہ آئے (۵) نوکری کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے وغیرہ وغیرہ لہٰذا اب اگر اس شخص کی بیوی (۶) سال بعد تنگ اگر خلع لینا چاہے تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہے جبکہ وہ اپنا حق مہر بھی معاف کرنے کو تیار ہے۔
از راہِ کرم آپ شرعیت محمدیہ حنفیہ کے تحت فتویٰ جاری کرکے مطلع کریں۔ جزاک اللہ!
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہے اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا گیا ہو اور آئندہ کیلئے شخصِ مذکور کے اپنے مذکور ناجائز طرزِ عمل سے رُکنے کی کوئی امید بھی نہ ہو، اور اس طرح کے رویہ سے عورت کو مزید الجھن اور پریشانی کا سامنا ہو تو اس صورت میں اس کیلئے اپنے شوہر سے خلع یا طلاق کامطالبہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور اسے بھی چاہئے کہ وہ اپنے ناجائز طرزِ عمل سے احتراز کرے ورنہ اسے اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کردے۔
قال الله تعالٰی: ﴿وعاشروهن بالمعروف﴾ [الآیة: النساء]
وقال تعالٰی: ﴿فإن خفتم الا یقیما حدود الله فلا جناح علیهما فیما افتدت به﴾ [البقرة)
وفی الفقه الإسلامی: ان كانت الزوجة كارهة زوجها لقبح منظر او سوء عشرة وخافت ألا تؤدی حقه جاز للزوج مخالعتها واخذ عوض فی نظیر طلاقها لكن یكره عند الحنفیة ان یاخذ منها اكثر مما اعطاها. (ج۹، ص۷۰۲۹)
وفیه ایضًا: وان كان الكره من الجانبین وخشیا التقصیر او التفریط فی حقوق الزوجیة جاز الخلع وجاز اخذ البدل اتفاقا لقوله تعالٰی فان خفتم الا یقیما حدود اله فلا جناح علیهما فیما افتدت به. (ج۹، ص۷۰۲۹) والله اعلم بالصواب