کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون جس کے پاس گیارہ سال سے ساڑھے سات تولہ سوناہے اور اس نےابھی تک ایک سال کی بھی زکوٰۃ نہیں دی اب وہ اس کا زکوٰۃ نکالنا چاہتی ہے تو شریعت میں اس کی کیا صورت ہوگی کہ کتنی زکوٰۃ نکالے اگر وہ بجائے سونا کے رقم کی صورت میں زکوٰۃ ادا کرے آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
اگر اس کی ملکیت میں مذکورساڑھے سات تولہ سونا کے علاوہ حاجتِ اصلیہ سے زائد نقدی اور مالِ تجارت وغیرہ نہ ہو اور زکوٰۃ اس سونے کا کچھ حصہ کاٹ کر دی جائے تو اس صورت میں اس پر فقط پہلے سال کی زکوٰۃ لازم ہے جو مذکور مقدار سونے کا چالیسواں حصہ بنتی ہے اگر قیمت لگاکر اس سے زکوٰۃ نکالی جاتی رہے گی اور اگر اس کی ملکیت میں مذکور سونے کے زیورات کے علاوہ چاندی کی انگوٹھی یا دوسرے زیورات بھی ہوں یا اس کی ملکیت میں حاجتِ اصلیہ سے زائد نقدی یا مالِ تجارت بھی ہو تو اس صورت میں ہر سال کے اموال زکویہ کا حساب لگا کر اس کل مال کا چالیسواں حصہ فقراء ومساکین کو بطورِ زکوٰۃ دینا لازم ہے۔
فی الشامیة: واللازم فی مضروب کل منهما (ومتموله ولوتبرا او حلیا مطلقا) مباح الاستعمال أولا ولو لتجمل والنفقة لأنهما خلا اثمانا فیزکیها کیف کانا. (۳/ ۲۹۸)
وفی البحر: شرط افتراضها لأنها فریضة محکمة قطعیة اجمع العلماء علی تکفیر جاهدها ودلیله القرآن.... وهو اما مجاز فی العرف بعلاقة المشرك من لزوم استحقاق العقاب بترکه عدل عن الحقیقة. (۲/ ۲۰۲) واللہ اعلم!