کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان کرام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت ہے اور وہ عارضی طور پر بھائی کے مکان میں رہتی ہے اور اس کا کرایہ اپنی بہن سے نہیں لیتاہے بلکہ اس کے اخراجات بھی بھائی نے اپنے ذمے لیے ہوئے تھے اور بھائی خود شادی شدہ ہے اس کے اپنے بچے ہیں اور اس کا کاروبار صحیح طریقے سے نہیں چل رہا اور مہنگائی بھی کافی ہوگئی ہے تو بھائی کی بہن کے دیورہیں لیکن وہ اپنے بچوں میں مصروف ہوتے ہیں اپنی بھابھی اور اس کے بچوں کا خیال بھی نہیں کرتے اور خرچہ وغیرہ بھی نہیں دیتے تو اس صورت میں کیا بیوہ عورت صدقہ فطر اور زکوٰۃ وغیرہ لے سکتی ہے جبکہ بیوہ عورت کے اپنے تین بچے ہیں اور وہ چھوٹے ہیں کمانے کے قابل نہیں ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون کی ملکیت میں اگر ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مقدار چاندی کی مالیت کے بقدر تھوڑا بہت سونا چاندی نقدی اور گھریلو ضرورت سے زائد سامان وغیرہ نہ ہو تو اُسے زکوٰۃ کی مد سے دینا شرعا بھی جائز ہے ورنہ نہیں۔
وفی الشامیة: مصرف الزکاة هو فقیر وهو من له ادنی شئی ای دون نصاب او قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة. (۲/ ۳۳۹)
وفی العالمگیریة: والافضل فی الزکوة والفطر والنذور الصرف اوّلا الٰی الاخوة والاخوات ثم الٰی اولادهم ثم الٰی الاعمام والعمات ثم الٰی اولادهم ثم الٰی الاخوال والخالات ثم الٰی اولادهم ثم الٰی ذوی الارحام ثم الٰی الجیران ثم الٰی اهل حرفته ثم الٰی اهل معه اور قریته کذا فی السراج الوھاج. (۱/ ۱۹۰) واللہ اعلم!