زکوۃ و نصاب زکوۃ

طلاق یافتہ عورت سونے کی زکوۃ کس طرح ادا کرے؟

فتوی نمبر :
73790
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

طلاق یافتہ عورت سونے کی زکوۃ کس طرح ادا کرے؟

میں ایک طلاق یا فتہ عورت ہوں میرا ایک ۱۳ سالہ بیٹا ہے میں جاب کرتی ہوں جہاں سے مجھے 6000 روپے ملتے ہیں۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس تقریباً ۱۰ تولہ سونا ہے اور گیارہ تولہ سونا میں نے الگ سے لے کر اپنے بچے کے نام کردیا ہے وہ سونا کے بسکٹ ہے۔
زکوٰۃ کے حوالے سے میں نے سونے کا وزن کروایا اور حساب لگایا تو زکوٰۃ ۱۴۰۰۰ بن رہی ہے جو کہ میں ادا نہیں کرسکتی کیونکہ میرے پاس صرف سونا ہے اس کے علاوہ میری تنخواہ بہت کم ہے جوکہ میں اد نہیں کرسکتی۔
خدا کیلئے میری یہ مشکل آسان کردیں اور مجھے اسلام کی اور اسے زکوٰۃ کے بارے میں بتائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے اگر فی الفور نقدی نہ ہو تو تھوڑا تھوڑا کرکے بھی اس کی ادائیگی کرسکتی ہے اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو تو سونے کا کچھ حصہ بیچ کر اس کا اہتمام کرے۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہد عبد الحمید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73790کی تصدیق کریں
0     647
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات