اگر کوئی مجھے زکوٰۃ دے تو کیا اسے میں اپنی والدہ کو دے سکتی ہوں، نیز کیا بیٹی ماں کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟
کیا تہجد کی نماز پڑھنے کےلیے سوکر اٹھنا نیند سے بیدا رہونا ضروری ہے؟ نیز اگر عشاء کی نماز نو رکعتیں پڑھی جائیں تو کوئی مضائقہ تو نہیں ؟
نماز پنجگانہ بچی پر کسی عمر سے فرض ہوتی ہے؟
سائلہ اگر صاحبِ نصاب ہو تو اس کا اپنی واجب الاداء زکوٰۃ والدہ کو دینا جائز نہیں اور اس سے شرعا زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی البتہ اگر کوئی دوسرا شخص اگر سائلہ کو اپنی زکوٰۃ کا وکیل بنادے اور سائلہ کی والدہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو تو اس رقم سے وہ اُسے بھی دے سکتی ہے۔ واللہ اعلم!
تہجد کی نماز کیلئے سونا شرط نہیں اس لیےبغیر سوئے بھی ایک تہائی رات گزرنے کے بعد نماز تہجد پڑھنا جائز ہے جبکہ عشا کے چار فرض، دو سنت اور تین وتر کل نو رکعتیں پڑھنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں۔
نماز پنجگانہ اگرچہ بچے اور بچی دونوں پر بلوغ کے بعدفرض ہوتی ہے مگر نبی کریمﷺ نے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم کرنے اور دس سال عمر ہونے کی صورت میں نما زنہ پڑھنے پر تنبیہا مارنے کا حکم فرمایا ہے تاکہ بلوغ کے بعد اُسے نماز کی ادائیگی میں دشواری نہ ہو۔ واللہ اعلم!