زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروباری شخص کے لیے زکوٰۃ ادا کرنے کا آسان طریقہ

فتوی نمبر :
73800
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروباری شخص کے لیے زکوٰۃ ادا کرنے کا آسان طریقہ

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے پرزے بناتاہوں اور وہ مختلف کمپنیوں کو دیتا ہوں پھربعض کمپنیوں سے تو رقم کی وصولی وقت پر ہوجاتی ہے بعض دو سال میں تین سال میں یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں واپس کرتی ہیں پوچھنا یہ ہے کہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کس طرح کروں میرے پاس خام مال بھی ہوتاہے اور تیار مال بھی ہوتاہے اور ایک وہ ہوتاہے جو مختلف پارٹیوں کو دے چکا ہوتاہوں اور ابھی اس کی ادائیگی باقی ہے اور کچھ قرضہ لوگوں کا ہمارے اوپر بھی ہوتاہے اس تمام مال پر زکوٰۃ کی کیا صورت ہوگی؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کی تاریخ میں سائل کو چاہیے کہ اپنے پاس موجود سونے، چاندی، نقدی (چاہے بینک میں رکھی ہو یا گھر میں یا کسی کے پاس امانت رکھوائی ہو) مال تجارت مارکیٹ وغیرہ میں لوگوں کے ذمہ واجب الوصول قرض کو اس میں جمع کرلے اور پھر اس میں خام مال اور دکان میں موجود تیار مال کی مالیت لگاکر اس تمام مجموعہ سے اپنے ذمّہ واجب الاداء مارکیٹ وغیرہ کے قرضہ جات منہا کرنے کے بعد ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کیا کرے یہی بہتر اور سہل طریقہ ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدّر: واللازم فی مضروب کل منهما ومعموله ولو تبرا أو حلیا مطلقا أو عرض التجارة قیمة نصاب من ذهب أو ورق مقوما بأحدهما ربع عشر فی کل خمس بحسابه اھ. (۲/ ۲۰۵)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عیسی عبد الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73800کی تصدیق کریں
0     1134
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات