۱۔ اگر کسی خاتون کے پاس ۲۰ یا ۲۵ تولہ سونا ہو، اور وہ زیورات وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کردے تو زکوٰۃ کس پر واجب ہوگی ان کی اولادہ پر یا والد پر؟
۲۔ اگر کسی شخص کے پاس کچھر قم ۳۰ یا ۳۵ لاکھ ہو اور وہ بینک میں جمع ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائیگی؟
۳۔ اگر کوئی عورت اپنی اولاد کیلئے زیورات بنوائے تو کیا وہ عورت ان زیورات کو استعمال کرسکتی ہے یا نہیں؟
۴۔ اگر کسی شخص کے بہت سے گھر ہوں یا دکان ہو لیکن وہ سب کرائے پر دیے ہوں تو ان کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے گئی؟ گھر یا دکان کی یا کرائے کی؟
۱۔ مذکور خاتون کی ملکیت میں اس قدر سونا ہوتے ہوئے اگر اس پر سال گزرگیا ہو تو مذکور سونے کی زکوۃ اسی پر ہی واجب ہوگی اور اگر سال گزرنے سے پہلے تقسیم کردیا تو اس صورت میں جو اولاد بالغ صاحب نصاب ہے ان پر اپنے دیگر اموال کے ساتھ اس سونے کی زکوٰۃ بھی واجب ہوگی دوسروں یعنی غیر بالغ اولاد پر نہیں۔
۲۔ بینک میں جمع شدہ رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہے جس کی ادائیگی کیلئے بہتر یہ ہے کہ بجائے بینک کے خود اس رقم کی زکوٰۃ نکالنے کا اہتمام چاہیے تاہم جس تاریخ میں بینک حساب کتاب کرکے زکوٰۃ کی ادائیگی کرتاہے اس تاریخ میں اگر ادائے زکوٰۃ کی نیت کرلی جائے تو شرعاً اس سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
۳۔ اگر وہ زیورات اپنی رقم سے بنوائے گئے ہوں اور اولاد کو ہبہ کرکے قبضہ نہ دیا ہو تو ان زیورات کی مالک مذکور خاتون ہی ہے اس کیلئے ان زیورات کا استعمال کرنا جائز ہے اور اگر ہبہ کرکے قبضہ بھی دے دیا ہو تو ان کی اجازت سے استعمال کرسکتی ہے۔
۴۔ کرایہ پر دیے ہوئے مکان اور دکانوں کے کرایہ پر زکوٰۃ ہے نہ کہ ان کی مالیت پر۔
فی التنویر: وشرط افتراضها عقل وبلوغ وسببه ملك نصاب حولی تام. (۲/ ۲۵۹)
فی الدر: وتتم الهبة بالقبض الکامل. (۵/ ۶۹۰)
فی التنویر: ولا فی ثباب البدن وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوها وفی الشامیة: قوله ونحوها أی کثباب البدن الغیر المحتاج الیها وکالحوانیت والعقارات. (۲۶۵) واللہ اعلم!