کیا فرماتے ہیں علماء دین وشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت ہے جس کی جوان بچیاں ہیں اور وہ عورت گھروں میں کام کرکے اپنا وقت پاس کرتی ہے اس کے گھر نہ سونا ہے اور نہ ہی چاندی ہے اور کوئی قیمتی چیز بھی نہیں ہے اس نے اپنی دوبیٹیوں کی منگنی کر رکھی ہے وہ لوگ شادی کی تاریخ مانگ رہےہیں تاریخ نہ دینے کی صورت میں منگنی توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم لے کر اس کی بیٹیوں کی شادی کی جاسکتی ہے اور کیا زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون یا اس کی بیٹیاں اگر سیّد نہ ہوں اور واقعتاً مستحق زکوٰۃ بھی ہوں تو ان کو زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی مد سے دینا بلا شبہ جائز اور درست ہے اور انہیں دینے والے کی زکوٰۃ بھی شرعاً اداہو جائے گی۔
قوله تعالٰی: ﴿انما الصدقات للفقراء والمساکین﴾ الخ (التوبة)
وفی الدر: مصرف الزکاة والعشر الی قوله هو فقیر وهو من له ادنی شیئ الی ان قال ومسکین من لا شئ له الخ. (۲/ ۳۳۹)
وفی الدر: ولا الی بنی هاشم الخ: (۳/ ۳۵۰) واللہ اعلم!