کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت ہے اس کے پاس دو لاکھ مالیت کے زیورات ہیں اس کے دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے، بیٹی شادی شدہ ہے ایک بیٹازیرِ تعلیم ہے جب کے دوسرے بیٹے کی آمدنی قلیل ہے بیٹے باپ کی طرف سے سید زادے ہیں بعض مالدار رشتہ دار اس عورت کی ایسی رقم سے تعاون کرتے ہیں جس رقم کا پتہ نہیں چلتا کہ یہ زکوٰۃ کی مد میں ہے یا ہدیہ اور نفلی صدقات؟ اور وہ لوگ وضاحت بھی نہیں کرتے براہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں بتائیں کہ اس عورت کیلئے اسی رقم کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
اگر مذکور زیورات ساڑھے ساتھ تولہ سے کم ہوں اور اس کی ملکیت میں اس کے علاوہ کوئی نقدی، چاندی وغیرہ اموالِ زکوٰۃ نہ ہوں تو اس کے لیے مدّ زکوٰۃ سے بھی معاونت لینا جائز ہے اور اسے لے کر اپنی اولاد پر بھی خرچ کرسکتی ہے۔
فی التاتار خانیة: قال محمد: لا تحل الزکوة لمن له مائتا درهم فصاعدًا ولا بأس بأن یأخذها من له اقل من مائتی درهم. (۲/ ۲۷۵)