کیا فرماتے ہیں حضرت علماءکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق:
زید کہتاہے ’’عباسی‘‘ کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی اور اس کی وجہ خاندانی شرافت وعظمت ہے یعنی ’’بنو عباس‘‘ سے ہونا ہے اور یہ علت اب بھی ہے۔
جبکہ عمرو کہتاہے کہ ’’عباسی‘‘ کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے پہلے دور میں اس لیے نہیں دی جاتی تھی کہ اس وقت ان کو بیت المال سے وظیفہ ملا کرتا تھا لہٰذا اب وظیفہ نہیں ملتا تو اگر کوئی ’’عباسی‘‘ مستحق ہے تو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
دلائل سے وضاحت فرمائیں کہ کس کی بات قرآن وسنت کے مطابق ہے۔
مفتی بہ قول کے مطابق عباسیوں کو فی زماننا بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیونکہ اس کی علت بیت المال سے ان کو وظائف کا ملنا نہیں بلکہ شارع کا اس کو اموال کا میل کچیل قرار دینا ہے۔ اور یہ علت اب بھی بدستور برقرار ہے۔
فی فتح القدیر: (ولا یدفع الی بنی هاشم لقوله علیه السلام یا بنی هاشم ان اللہ تعالی حرم علیکم غسالة الناس واو ساخهم وعوضکم منها بخمس الخمس بخلاف التطوع الخ. (۲/ ۲۱۲)
وفی الهندیة: ولا یدفع الی بنی هاشم وهم آل علی وآل عباس وآل جعفر وآل عقلیل وآل الحرث بن عبد المطلب کذا فی الهدایة. (۱/ ۱۸۹) واللہ اعلم!