کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک گورنمنٹ ملازم ہوں اور میری تنخواہ سولہ ہزار ہے اور میرے چھ بچے ہیں اور سب اسکول جاتے ہیں اور میری تنخواہ سے میرا گزارہ انتہائی مشکل ہوجاتاہے اور میری بیوی کا آپریشن ہے جس میں ایک لاکھ کی بابت خرچہ آئے گا تو اس صورت میں کیا میرے لیے زکوٰۃ کی رقم سے اس کا علاج کروانا جائز ہے یا نہیں براہِ کرم اس کا جواب جلد از جلد عنایت فرمائے۔
نوٹ: میری ملکیت یا بیوی کی ملکیت میں کوئی سونا، یا چاندی نقدی کچھ بھی نہیں ہے۔
سائل اگر واقعتا مستحق زکوٰۃ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو اس صورت میں بلا شبہ وہ زکوٰۃ کی رقم سے اپنی بیوی کا علاج کرواسکتاہے۔
فی الدر: وکره اعطاء فقیر نصابا أو اکثر الا إذا کان المدفوع الیه مدیونا أو کان صاحب عیال بحیث لو فرقه علیهم لا یخص کلا او لا یفصل بعد دینه نصاب فلا یکره اھ (۳/ ۳۵۳) واللہ اعلم!