زکوۃ و نصاب زکوۃ

پرچون کی دکان کا مالک زکوٰۃ وصول کر سکتا ہے ؟

فتوی نمبر :
73806
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پرچون کی دکان کا مالک زکوٰۃ وصول کر سکتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام عبد الرحمٰن عرف زلو خان ہے میرے حالات اس طرح ہیں کہ میری ایک چھوٹی دوکان ہے جس میں بچوں کی ٹافیاں پاپڑ وغیرہ ہیں اور سات سو پنشن ہیں اس کے علاوہ اور کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے گھر کے اخراجات بھی پورے کرتاہوں اور تقریباً 85000 روپے قرضہ ہے اور گھر میں ڈلیوری بیماری بھی ہے اور میرے ایک دوست ہیں جو مجھے زکوٰۃ کی مدد سے رقم دینا چاہتاہے آیا میں اس زکوٰۃ کا مستحق ہوں یا نہیں میرا زکوٰۃ لینا کیساہے؟ اور میں ایک ہاتھ سے معذور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور سائل کی ملکیت میں اس قرض کو اتارنے کے لیے حاجت اصلیہ سے زائد کسی قسم کا کوئی اثاثہ وغیرہ نہ ہو اور دکان سے بھی محض اس کے گھر کا خرچ چلتاہو اور اس میں موجود مال سے بھی قرض کی ادائیگی نہ ہوسکتی ہو تو اس صورت میں وہ بلاشبہ مستحق زکوٰۃ ہے اس لیے اس کا کسی دوسرے سے زکوٰۃ کی رقم لے کر اپنے قرض وغیرہ کی ادائیگی میں دینا بھی جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الهندیة: ومنه الغارم وهو من لزمه دین لا یملك نصابا فاضلا عن دینه او کان له مال علی الناس لایمکنه اخذه والدفع الی من علیه الدین اولٰی من الدفع الی الفقیر. (۱/ ۱۸۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب الرحمن جمیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73806کی تصدیق کریں
0     752
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات