کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں چار پانچ ماہ نوکری نہ ہونے کی وجہ سے تیس ہزار کا مقروض ہوگیا ہوں اور قرضہ اتارنے کے لیے میرے پاس کوئی ایسی چیز یا سامان نہیں ہے جس کو بیچ کر قرضہ اتار سکوں سوائے استعمال کی چیزوں کے جس طرح چھت کا پنکھا، ٹیبل پنکھا، واشنگ مشیک استری یا ایک جوڑی بالیوں کی جوکہ پہنی ہوئی ہے جس کی قیمت سنار کے مطابق ہزار روپے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی سامان نہیں، کیا اس سامان اور قرضہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں زکوٰۃ لینے کا حق رکھتاہوں یا نہیں؟
نوٹ: اس وقت میری تنخواہ 5500 روپے ہیں 2000 مکان کا کریہ، باقی آنے جانے کا کرایہ اور گھر کا خرچہ کرنے میں مشکل سے پورا ہوتا ہے اور اس تنخواہ سے میں قرضہ نہیں اُتارسکتا، آپ مجھے صحیح راستہ بتائیں قرضہ اُتارنے کا۔
سائل کا بیان اگر واقعتاً درست اور حقیقت پر مبنی ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیان اور جھوٹ کا سہارا بھی نہ لیا جارہاہو کہ وہ واقعی اتنے پیسوں کا مقروض ہو اور قرضہ اتارنے کا کوئی راستہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں وہ بلا شبہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے اور زکوٰۃ کی رقم سے قرض بھی اتار سکتاہے۔
قال اللہ تعالٰی: ﴿انما الصدقات للفقرآء والمساکین والعاملین علیها والمؤلفة قلوبهم وفی الرقاب والغارمین وفی سبیل اللہ وبن السبیل﴾ (التوبة)
وفی الدر: وفی الظهریة: الدّفع للمدیون اولٰی منه للفقیر. (۲/۳۴۳)
وفی الشامیة: قال والغارم من لزمه دین اوله دین علی الناس لا یقدر علٰی اخذه ولیس عنده نصاب. (۲/ ۳۴۳) واللہ اعلم!