کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس سونا اور چاندی کا نصاب موجود ہو تو آیا اس پر ہر سال زکوٰۃ آئے گی یا ایک مرتبہ ادا کرنے سے ادا ہوجائے گی نیز سونا چاندی کا نصاب بھی تحریر فرمائیں۔
ایک شخص کے پاس سونا سات تولہ ہو اور چاندی پانچ تولہ تو اس پر زکوٰۃ آئے گی یا نہیں۔
ایک شخص کے پاس نصاب موجود ہو مگر پھر وہ نصاب سے کم رکھ کر باقی کو بیچ دے تاکہ اس پر زکوٰۃ نہ آئے تو اس شخص کا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
۱، ۲۔ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا ساڑھے باون تولہ ہے اگر کسی شخص کے پاس ان میں سے کوئی ایک نصاب یا کسی نصاب کے برابر مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد اتنی یا اس سے بھی زائد رقم ہو اور اس پر سال گزر جائے، تو اس پر کل مال کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ دینا لازم ہے اور جب تک یہ نصاب کا مالک رہے گا اس وقت تک ہر سال زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم ہوگی۔
۳۔ نصاب پر سالِ قمری ہونے سے قبل مذکور عمل سے اگرچہ زکوٰۃ تو ساقط ہوجائے گی، مگر محض زکوٰۃ سے بچنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنا انتہائی نامناسب اور مکروہ ہے جس سے احتراز چاہیے۔
فی الهندیة: وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتاخیره من غیر عذر وفی الروایة الرازی علی التراخی حتی یاثم عند الموت والاول اصح. (۱/ ۱۷۰)
فی الهدایة: فاذا کانت ماتین وحال علیها الحول ففیها خمسة دراهم لانه علیه السلام کتب الی معاذ رضی اللہ عنه ان خذ من کل مائتی درهم خمسة دراهم ومن کل عشرین مثقال من ذهب نصف مثقال. (۱/ ۱۹۴)