زکوۃ و نصاب زکوۃ

ترکہ کی رقم پر بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
73892
| تاریخ :
2024-06-12
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ترکہ کی رقم پر بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،مفتی صاحب ! 11 نومبر 2021 کو روڈ ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی انتقال کرگئے تھے، وہ شادی شدہ تھے، انکی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں ،بھائی کے انتقال کے 6 ماہ بعد خاندان کےبڑوں نے آپس میں مشورہ کرکے میرا نکاح میری بھابھی کے ساتھ کردیا تھا۔ اب بھائی کے بچوں کی ، میرے والد صاحب کی اور ایک میرے نابینا تایا جان جوکہ غیر شادی شدہ ہے سب کی ذمہ داری مجھ اکیلے پر ہے، میری بھی ایک بیٹی ہے، میں اکیلا کمانے والا ہوں ،میری ماہانہ تنخواہ سے گھر کا ماہانہ خرچہ بمشکل چلتا ہے،میرے بھائی ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتے تھےاور اس کمپنی نے میرے بھائی کی انشورنس کروائی تھی،انشورنس کے پیسوں سے ہم نے ایک 3 مرلے کا پلاٹ خریدا اور پلاٹ اس نیت سے خریدا کہ ایک تو پیسے پاس رہے تو پیسے کہیں نہ کہیں خرچ ہوجائیں گے ،دوسرا جب بھی بھائی کی بیٹی کی شادی کریں گے تو وہ پلاٹ بیچ کر وہی پیسہ بیٹی کی شادی پر خرچ کریں گے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر مرحوم بھائی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کمپنی نےاپنی طرف سے انشورنس کروائی تھی تو ایسی صورت میں کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم اگر کسی وارث کی تعیین کے بغیر سب ورثاء کے نام جاری کی گئی ہو تو ایسی صورت میں مذکور رقم سائل کے بھائی کا ترکہ ہے جواس کے دیگر ترکہ کے ساتھ شامل ہوکر اس کے ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنالازم تھا،لیکن چونکہ مذکور رقم سے پلاٹ خریدا گیاہے تو یہ پلاٹ مرحوم کے تمام ورثاء کی ملکیت ہے، لہذا جب تک اس پلاٹ کو بیچ کر ورثاء کو اس پر مالکانہ قبضہ نہیں دیا جاتا،اس وقت تک اس پلاٹ کی قیمت پر زکوٰۃلازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وجملة الكلام في الديون انھا على ثلاث مراتب في قول ابی حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا (الیٰ قوله) واما الدين الضعيف فھو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، او بصنعه كما لوصية، او وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض(کتاب الزکوۃ،فصل الشرائط التی ترجع الی المال،ج1،ص10،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفي الفتاوى الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصاباويحول عليه الحول اھ( کتاب الزکوۃ، الاول فی تفسیر الزکوۃ، ج1، ص175، ط:ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73892کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات