اگر آپ کے پاس سونا موجود ہے جس کی قیمت چاندی کے نصاب کے برابر ہے، تو آپ کو زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کس ترتیب سے عمل کرنا چاہئیے؟
واضح ہو کہ اگر کسی کی ملکیت میں فقط سونا ہو اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں چاندی ، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود نہ ہو یا اس کے پاس فقط چاندی ہو ، اس کے علاوہ اس کے پاس سونا ، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں جب تک سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے تک نہیں پہنچتی تب تک اس پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی ، البتہ اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی دونوں موجود ہوں یا ان کے ساتھ نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ بھی موجود ہو تو ایسی صورت میں جب ان اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے تو اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکٰوۃ دینا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : ( وسببه ) أي سبب افتراضها ( ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) الخ۔ ( کتاب الزکوٰۃ ، ج۲ ، ص۲۵۹، ط۔سعید )۔
و فی الھندیۃ : وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز الخ۔ ( کتاب الزکوٰۃ ، ج۱ ، ص۱۷۹ ، ط۔ماجدیہ )۔
و فی بدائع الصنائع : ( فصل ) أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم ( إلی قولہ ) وأما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم، وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئا ( کتاب الزکوٰۃ ، فصل الأثمان المطلقہ ، ج۲ ، 17، ط۔دارالکتب العلمیہ )۔