السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب صورت مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس (3530) بکریاں ہوں، حولان حول ہے، اگر یہ بچے پیداکرے مثلا رمضان کے مہینے میں یہ تو بڑھ گئے 60.55 تک پہنچ جائے ، جب اگلے رمضان کو پہنچتے ہیں، تو یہ دوبارہ (3530) تک پہنچتے ہیں، کیونکہ اس میں کچھ ذبح کرتے ہیں کچھ فروخت کرتے ہیں، تو اس صورت میں زکوۃ ہے یا نہیں۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ، تاہم جس شخص کی ملکیت میں جس وقت نصاب کے بقدر بکریاں آجائیں اس دن سے وہ صاحب نصاب شمار ہوتا ہے، چنانچہ اس کے بعد جب اس پر سال گزرجائے تو اس وقت اس کی ملکیت میں بقدر نصاب یا اس سے زائد جتنی بکریاں ہوں گی تو اس کے ذمہ بکریوں کے نصاب کے اصول وضوابط کے مطابق ان تمام بکریوں پر زکوٰۃ لازم ہوگی، دوران سال بکریوں کے بڑھنے یا کم ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔
کما فی الدرالمختار: (وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول. الخ (ج2 ص302 باب زکاۃ المال ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: (قوله: فلو هلك كله) أي في أثناء الحول بطل الحول، حتى لو استفاد فيه غيره استأنف له حولا جديدا وتقدم حكم هلاكه بعد تمام الحول في زكاة الغنم. قال في النهر: ومنه أي من الهلاك ما لو جعل السائمة علوفة؛ لأن زوال الوصف كزوال العين الخ ( ج2 ص 302 باب الزکاۃ المال ط سعید)۔