زکوۃ و نصاب زکوۃ

ساڑھے چار تولے سونے پر زکوۃ واجب ہونے سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
76791
| تاریخ :
2024-07-23
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ساڑھے چار تولے سونے پر زکوۃ واجب ہونے سے متعلق حکم

السلام علیکم !
میری والدہ کی شادی 1981 میں ہوئی تھی ان کے پاس شادی کے پہلے تین سال تین تولے سونے کا زیور تھا بعد میں ڈیڑھ تولے کا زیور تھا میرے والد صاحب والدہ کو گھر کے خرچہ کے لئے رقم دیتے تھے مگر جمع پونجی والدہ کے پاس نہیں تھی ،کیا میری والدہ پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ سائل کی والدہ کی ملکیت میں اگر فقط یہی سونے کا زیور ہو ،اس زیور کے ساتھ دیگر اموال زکوۃ ضرورت سے زائد نقدی وغیرہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں ان پر مذکور زیور کی زکوۃ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃ مائتا درھم کل عشرۃ)دراھم الخ (ج 2 ص 295 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76791کی تصدیق کریں
0     609
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات