السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!میرا نام محمد ایاز ہے، میں ممبئی انڈیا میں مکتب پڑھاتا ہوں ، تقریبا دس سالوں سے میں مکتب میں مدرس کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہا ہوں، اب تک مکتب کرایہ کی جگہ میں چل رہا ہے،اب مکتب کے لئے جگہ خریدنی ہے، تو آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ مکتب کی جگہ خریدنے میں کیا زکوٰۃکی رقم استعمال کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو پھر کس مد سے جگہ خریدی جائے۔
واضح ہوکہ زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہونے کے لئے زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے، بنا تملیک زکوٰۃ کی رقم مکتب کی جگہ میں لگانا جائز نہیں، اور نہ ایسا کرنے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوگی، البتہ اگر مکتب کی خریداری کے لئے صدقات نافلہ اور عطیات وغیرہ کی رقم ناکافی ہو، تو حیلہ تملیک کے بعد زکوٰۃ کی رقم مذکور غرض کے لئے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
کما فی الدرالمختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)الخ(کتاب الزکوٰۃ،ج2،ص344،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين الخ(فصل فی المصارف،ج1،ص188،ط:ماجدیہ)۔
وفی البحرالرائق: وقيد بالزكاة؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تحل صدقة لغني» خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة كذا في البدائع وأما صدقة الوقف فيجوز صرفها إلى الأغنياء إن سماهم الواقف الخ(باب مصرف الزکوٰۃ،ج2،ص263،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔