میں نے ایک رہائشی اسکیم میں دو الگ سائز کے دوپلاٹ بک کرائے تھے کہ اس میں جو ایک پلاٹ اگرنکل آئے گا تو اسے گھر کی تعمیر کے لیے رکھ لونگا اور دوسرے پلاٹ کی بکنگ کے لیے جمع کرائے گئے پیسے بھی اس میں شامل کردں گا، لیکن سال 2020 سے لیکر اب تک اس کی قرعہ اندازی نہیں ہوئی اورکم وبیش میرے اس مد میں ادارہ ترقیات حیدرآباد کے پاس 8 لاکھ روپے جمع ہیں، اگر میں اسے نکلواتا ہوں تو دس فیصد کٹوتی ہوگی اس لیے اپنی رقم بچانے کے لیے میں وہ پیسے نہیں نکلوارہا۔ براہ کرام رہنمائی فرمائیں کہ میری جو بکنگ کی مد میں رقم جمع ہے توکیا اس پر بھی مجھے زکواۃ ادا کرنی ہوگی یا نہیں؟ شکریہ!
سائل نے مذکور رہائشی اسکیم میں پلاٹ بکنگ کی مد میں جو رقم جمع کی ہے ، چونکہ وہ رقم بقدر نصاب ہے اور مذکور محکمہ کے پاس امانت ہے، لہذا دیگر اموالِ زکوٰۃ (اگر سائل کے پاس موجود ہو) کی طرح اس رقم پر بھی گزشتہ تمام سالوں کی ادائیگی لازم ہوگی۔