زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
77214
| تاریخ :
2024-08-06
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم!
میں ایک سرکاری ملازم ہوں ،اور ہم سے حکومت ہر ماہ تنخواہ میں جی پی فنڈ، بینولینٹ فنڈ اور ریٹائرمنٹ بینیفٹ کی مد میں مخصوص رقم کی کٹوتی کرتی ہے، اس میں جو جی پی فنڈ کے پیسے ہیں،وہ ہم اپنی جمع شدہ رقم کا 80 فیصد کسی بھی وقت نکلواسکتے ہیں،لیکن بطورِ قرض جوکہ حکومت ہم سے تین سال کے اندر اندر کاٹ کرواپس جمع کرتی ہے،مزید یہ کہ جی پی فنڈ کی رقم 55 سال کی عمر ہوجانے کے بعد ہم بنا واپسی کے نکال سکتے ہیں، اس سے کم عمر میں وہ ہم جب بھی نکالیں گے تو واپس جمع کرنی پڑتی ہے،جبکہ مذکورہ بالا باقی دو قسم کی رقوم ہمیں صرف ریٹائرمنٹ یا وفات پر ہمارے ورثاء کو دی جاتی ہے،اور یہ رقوم سکیل کے حساب سے مخصوص ہوتی ہیں،اس میں جس کی جتنی رقم جمع ہوتی ہے،اگر وہ ملنے والی رقم سےکم یا زیادہ بھی ہوگی تب بھی ہمیں وہی مخصوص طے شدہ رقم ملےگی۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ آیا ان مذکورہ بالا رقوم میں ہم پر زکوۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین اور افسران کو ریٹائرڈ ہونے یا فوت ہونے کی صورت میں مختلف طرح کے فنڈ دیے جاتے ہیں جیسے پراویڈنٹ فنڈ،بینولنٹ فنڈ،گریجویٹی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ ان تمام کے بارے میں اصولی بات یہ ہے کہ جب تک یہ رقم قبضہ میں نہ آجائے،اس وقت تک ان رقوم پر زکوۃ لازم نہیں اور قبضہ میں آنے کے بعد بھی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں اور اگر وہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اختتامِ سال پر اس کے پاس مذکور رقوم میں سے جتنی رقم باقی ہو،اس پر بھی زکوۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی رد المحتار: قلت: لكن قال في البدائع: إن رواية ابن سماعة أنه لا زكاة فيه حتى يقبض المائتين ويحول الحول من وقت القبض هي الأصح من الروايتين عن أبي حنيفة اهـ ومثله في غاية البيان، عليه فحكمه حكم الدين الضعيف الآتي الخ(ج2 ص306 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول الخ(ج1 ص175 کتاب الزکوۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی الفتاوی التاتاخانیۃ: الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا بلغ نصابا ملکا تاما وحال علیہ الحول،المضمرات: الملک التام أن یکون ملکہ ثابتا من جمیع الوجوہ ولایتمکن النقصان فیہ الخ(ج2 ص217 کتاب الزکوۃ ط: ادارۃ القرآن)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77214کی تصدیق کریں
0     769
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات