زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ پر اضافی رقم لینے کا حکم

فتوی نمبر :
77454
| تاریخ :
2024-08-17
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پراویڈنٹ پر اضافی رقم لینے کا حکم

سوال 1: دفتر کی طرف سے دیے گئے پراویڈنٹ فنڈز کی رقم پر منافع حلال ہے یا سود کی ہے؟ مجھے کل رقم پر تقریباً تین (03) لاکھ روپے منافع دیا گیا ہے، کیا یہ حرام ہو گا؟سوال 2: اگر یہ حرام ہے تو اس رقم سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟سوال 3: میں نے اپنا تمام اثاثہ فروخت کر دیا ہے کیونکہ میں اپنے خاندان کو دوسرے ملک منتقل کر رہا ہوں اور اب میرے اکاؤنٹ میں تقریباً 50 لاکھ روپے کی رقم موجود ہے، اور مجھے یہ تمام رقم دوسرے ملک منتقل ہونے کے بعد اپنے خاندان پر خرچ کرنی ہے، کیا مجھے اس رقم پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟ اگر ہے، تو کتنی رقم دینی ہوگی؟سوال 4: کیا میں زکوٰۃ کی رقم ایک ضرورت مند کینسر کے مریض کو اس کے علاج کے اخراجات کے لیے دے سکتا ہوں؟ اور کیا مجھے اسے بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں ، (1) جبری (2) اختیاری ، جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں ،لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے، اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق کو صدقہ کردی جائے، جبکہ تمام اثاثہ فروخت کرنے کے بعد سائل کو جو پچاس لاکھ کی رقم حاصل ہوئی ہے ، اگر سائل پہلے سے صاحب نصاب ہو تو دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ ادائیگی زکوٰۃ کے وقت اس رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ لازم ہوگی ورنہ پہلے سے صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں اس رقم کے ملنے کے بعد سائل صاحب نصاب بن چکا ہے، اور اس نصاب پر قمری سال مکمل ہونے کی صورت میں اس وقت موجود رقم پر ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوگا، اور سائل کے لئے زکوٰۃ کی یہ رقم کسی بھی مستحق زکوٰۃ شخص (جو کینسر کا مریض ہو) زکوٰۃ کے عنوان کے بغیر ملکیتاً دینا بھی جائز ہے، تاکہ وہ اس سے اپنے علاج معالجہ کے اخراجات پورے کرسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما البحر الرائق: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) (الى قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري الخ (ج7 /300 کتاب الاجارۃ ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا(الی قولہ) (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف (الی قولہ) إلا إذا كان عنده ما يضم إلى الدين الضعيف الخ (2/305) باب الزکاۃ المال ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله إلا في حق الوارث إلخ) (الی قولہ) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه(الی قولہ) ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل.الخ (5/99 باب البیع الفاسد مطلب فيمن ورث مالا حراما ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب.الخ (2/259 کتاب الزکاۃ ط سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77454کی تصدیق کریں
0     585
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات