کیا فرماتے ہیں مفتیان درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
ایک شخص کا کہنا یہ ہے کہ زکوۃ ر وپوں کی صورت میں ہی دی جاسکتی ہے، اجناس جیسے راشن ، کپڑے وغیرہ کی صورت میں زکوۃ دینا درست نہیں ۔ اس بابت راہ نمائی فرماکر مشکورو ممنون فرمائیں ۔
ا س بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ زکوۃ نقد کی صورت میں ادا کرنا افضل و بہتر ہے ، تاکہ غرباء و مساکین اپنی ضروریات و حاجات کے مطابق اسے استعمال میں لاسکیں ، تاہم اگر کوئی شخص اجناس مثلاً راشن ، کپڑوں وغیرہ کی صورت میں اپنی زکوۃ کی ادائیگی کرتا ہے ، تو ان اشیاء کو بھی زکوۃ میں دینا شرعا جائز و درست ہے ، اور ان اشیاء کے دینے والوں کی زکوۃ بھی بلاشبہ درست ادا ہوگی، اس لیے ادائیگی زکوۃ کی صحت اور درستگی کو فقط نقد رقم دینے کے ساتھ مختص کرنا مسائل شریعت سے ناواقفیت پر مبنی قول ہے۔
کما فی المبسوط للسرخسی : وكان الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - يقول: أداء القيمة أفضل؛ لأنه أقرب إلى منفعة الفقير فإنه يشتري به للحال ما يحتاج إليه اھ ( 3/107)
کما فی الدر المختار: فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض اھ (2/257)
وفی رد المحتار تحت: (قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه، ولا يخفى أنه يشترط كونه فقيرا، ولا حاجة إلى اشتراط فقر أبيه أيضا لأن الكلام في اليتيم ولا أبا له فافهم (قوله كما لو كساه) أي كما يجزئه لو كساه ح اھ (2/257) واللہ اعلم بالصواب