زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر خریدے ہوئے پلاٹوں پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
78293
| تاریخ :
2024-09-28
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر خریدے ہوئے پلاٹوں پر زکوۃ کا حکم

میرے پاس کچھ زمین ہے جس میں کچھ قسطوں میں ہے جو چل رہی ہے، کچھ مکمل ادا کر دی گئی ہے۔میرے کچھ سوال ہے کہ ان زمینوں پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ میری زکوٰۃ کا نصاب ہر سال یکم رمضان ہے۔
(۱) تین پلاٹوں کی فی الحال میں قسط ادا کر رہا ہوں، ان میں 2 پلاٹوں کی قسط کی مدت6 سال باقی ہے اور 1پلاٹ کی مدت2.5 سال باقی ہے ،اس کے بعد اس پر میرا مکمل ہولڈ ہو جائے گا، جب تک میں قسط ادا کر رہا ہوں، کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اور اس کے بعد بھی جب یہ میرا ہو گا؟
(۲) میں نے 4 پلاٹوں کی ادائیگی کر دی ہے، لیکن وہ میرے حوالے نہیں کیے گئے، قرعہ ا ندازی کے بعد میرے حوالے کر دیے جائیں گے۔اور قرعہ ا ندازی کب ہو گی ؟مجھے نہیں معلوم ، یعنی قرعہ ا ندازی کے بعد مجھے پتہ چل جائے گا کہ میرا پلاٹ کہاں ہے ۔ کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟
(۳) میں نے 2 پلاٹوں کی ادائیگی کر دی ہے،لیکن یہ پلاٹ میں نے تین ماہ پہلے خریدے، لیکن ایک سال مکمل نہیں ہوا ، کیونکہ میرے نصاب کی تاریخ یکم رمضان ہے، میں نے تین ماہ پہلے خریدا ہے (24 ربیع الاول 1446ھ) کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟
ان پلاٹوں کو خریدتے وقت میری نیت صرف منافع کمانا نہیں تھی۔ اس کے بجائے میری نیت یہ تھی اور ہے کہ
1) میں مستقبل میں اپنے بچوں کی تعلیم، شادی یا کسی اور ضرورت کی وجہ سے فروخت کر سکتا ہوں۔
2)اس کے علاوہ اگر میں مر گیا تو شریعت کے مطابق میرے بچوں میں تقسیم ہو گا ،
3)اور اگر مجھے اچھا منافع مل رہا ہے تو میں اسے بیچ بھی سکتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سونے، چاندی اور نقدی کے علاوہ زمین، مکان اور دیگر غیر منقولہ املاک وغیرہ پر زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوتی ہے جب اُنہیں ابتداءً تجارت ( آگے فروخت) کی نیت سے خریدا گیا ہو، اور یہ نیت برقرار بھی رہے، صورتِ مسئولہ میں چونکہ ان تمام پلاٹوں کو تجارت کی نیت سے نہیں بلکہ رقم محفوظ کرنے، مستقبل کی ضروریات، بچوں کی تعلیم وشادی اور عمومی فائدہ کے پیشِ نظر خریدا گیا ہے، اور دل میں صرف یہ خیال تھا کہ اگر مناسب نفع ملے تو فروخت بھی کر دیے جائیں گے،چونکہ مذکور نیت کو شرعاً”نیتِ تجارت“ نہیں کہاجاسکتا، لہٰذا ان پلاٹوں (خواہ کچھ پلاٹ قسطوں میں ہوں، کچھ کی ادائیگی مکمل ہو چکی ہو، لیکن قبضہ و قرعہ اندازی باقی ہو، یا کچھ نئے خریدے گئے ہوں )میں سے کسی پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (وشرطہ) أی شرط افتراض أدائھا (حولان الحول) وھو فی ملکہ (وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر) لتعینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکاۃ کیفما أمسکھما ولو للنفقۃ أو (السوم) بقیدھا الآتی (أو بنیۃ التجارۃ) فی العروض، إما صریحا ولابد من مقارنتھا لعقد التجارۃ کما سیجئ، أو دلالۃ بأی یشتری عینا بعرض التجارۃ أو یؤاجر دارہ التی للتجارۃ بعرض فتصیر للتجارۃ بلانیۃ صریحاً إلخ(کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 268، ط:سعید)-
وفی الدر أیضاً: فلازکوٰۃ علی مکاتب (إلی قولہ) واثاث المنزل ودور السکنی ونحوھا اذا لم ینو التجارۃ إلخ(کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 264، ط: سعید)-
وفی الھندیۃ: (ومنھا کون النصاب نامیا) حقیقۃ بالتوالد والتناسل والتجارۃ أو تقدیراً (إلی قولہ) والفعلی ماسواھما ویکون الاستمناء فیہ بنیۃ التجارۃ أو الاسامۃ ونیۃ التجارۃ والاسامۃ لاتعتبر مالم تتصل بفعل التجارۃ أو الاسامۃ إلخ(کتاب الزکاۃ، الباب الأول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا، ج: 1، ص: 175، ط: مکتبۃماجدیۃ)-
وفی موسوعۃ الفقھیۃ: اتفق الفقهاء على أنه يشترط في زكاة مال التجارة أن يكون قد نوى عند شرائه أو تملكه أنه للتجارة، والنية المعتبرة هي ما كانت مقارنة لدخوله في ملكه؛ لأن التجارة عمل فيحتاج إلى النية مع العمل، فلو ملكه للقنية ثم نواه للتجارة لم يصر لها، ولو ملك للتجارة ثم نواه للقنية وأن لا يكون للتجارة صار للقنية،الخ (المادۃ زکاۃ، ‌‌الشرط الثالث: نية التجارة، ج23، ص271، ط: دار السلاسل، الکویت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78293کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات