میں بے روزگار ہوں ،ہمارے پاس نقد رقم نہیں ہے۔ میری بیوی کے پاس سونا ہے۔ ہم اس سونے پر زکوٰۃ کیسے دے سکتے ہیں؟ براہ کرم طریقہ کار کے بارے میں تفصیل سے بتائیں شکریہ
واضح ہو کہ بیوی کے زیورات پر زکوۃ ادا کرنا شوہر کے ذمہ نہیں ہے، بلکہ بیوی اپنی ملکیت میں موجود سونے کی زکوۃ ادا کرنے کی خود پابند ہے۔ لہذا اگر سائل کی بیوی کے پاس موجود سونے کی مقدار ساڑھے سات تولہ یا اس سے زائد ہو یا سونے کی مقدار تو ساڑھے سات تولہ سے کم ہو ، مگر اس کے ساتھ دیگر اموالِ زکوۃ جیسے چاندی ،نقدی یا اموالِ تجارت میں سے کوئی چیز موجود ہو ، اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہو ، تو اس پر زکوۃ ادا کرنا واجب ہوگا ، جبکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے اگر رقم موجود نہ ہو ، تو اسی سونے کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوۃ ادا کریں یا کسی سے قرض لیکر بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے ، تا ہم کیش رقم موجود نہ ہو ہونے کی وجہ سے سائل کی بیوی ادائیگئ زکوۃ سے بری الذمۃ نہ ہوگی ، البتہ سہولت کی خاطر یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ زکوۃ کا حساب کرکے وہ رقم پورے سال میں تھوڑی تھوڑی کرکے وقتاً فوقتاً مستحقین کو ادا کردی جائےتو شرعاً اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کما فی الدر المختار: (و اللازم) مبتداء (فی کل مضروب کل ) منھما( و معمولہ و لو تبرًا و حلیاً مطلقاً) مباح الاستعمال او لا و لو للتجمل و النفقۃ لانھما خلقاً اثماناً فیزکیھما کیف کانا الخ ( باب زکوۃ المال، ج: 2، ص: 398، ط: ایچ ایم سعید) ۔
و فی الھندیۃ: الفصل الاول فی زکاۃ الذھب و الفضۃ تجب فی کل مأئتی درھم خمسۃ دراھم و گی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروباً کان او لم یکن مصوغاً او غیر مصوغٍ حلیاً نصف (الی قولہ) و یعتبر فیھما ان یکون المودی قدر الواجب وزناً و لا یعتبر فیہ القیمۃ الخ۔ ( الفصل الاول فی زکاۃ الذھب، ج: 1، ص: 178، ط: ماجدیہ )۔