زکوۃ و نصاب زکوۃ

دکان میں موجود اشیاء اور قسطوں پر فروخت شدہ اشیاء کی زکوۃ نکالنے کاطریقہ

فتوی نمبر :
80232
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دکان میں موجود اشیاء اور قسطوں پر فروخت شدہ اشیاء کی زکوۃ نکالنے کاطریقہ

بخدمت جناب مفتی صاحبان السلام علیکم
عرض ہے کہ میری قسطوں کی دکان ہے، اور جن میں مختلف گھریلو اشیاء فروخت کرتا ہوں ،اور میں آپ سے زکوٰۃ کے بارے میں شرعی معلومات کرنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کس طرح سے زکوٰۃ ہوگی؟ یعنی میرے پاس جو نقد رقم یا سامان پر جو دکان میں موجود ہو ،اور یا قسطوں پر جو مال لوگوں کو دیا ہے ،جو ماہوار قسطیں دیتے ہیں، اُن پر یا دونوں پر زکوٰۃ ہوگی؟ اور واضح رہے کہ نقد رقم اور سامان جو ہے وہ تو ہمارے پاس ہی ہے، لیکن قسطوں پر جو مال لوگوں کو دیا ہے، اُن کو ہم تقریباً ایک سال تک یا دس ماہ ہمارا ٹائم لینے کا ہوتا ہے ،جب لے کے چلے جاتے ہیں تو کوئی ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ٹائم پر دیتے ہیں اور اُن کی رقم صحیح طریقے سے ختم ہو جاتی ہے اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ سال ٹائم کے بجائے دو سال بھی لگ جاتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ بھاگ جاتے ہیں اور اس وقت بھی ایسے کافی لوگ ہیں کہ بھاگے ہیں تو مفتی صاحبان سے گزارش ہے کہ صحیح واضح طور پر ہمیں فتویٰ دیں تاکہ ہم اپنی زکوٰۃ مناسب اور شریعت کے مطابق ادا کریں، کیونکہ یہ صرف اکیلے ہمارا مسئلہ نہیں، یہاں کراچی میں زیادہ کاروبار قسطوں پر ہے اور یہ فتویٰ میں آگے لوگوں کو بھی باآسانی سمجھا سکوں گا۔ آپ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور دکان پر موجود اشیاء اور قسطوں پر فروخت شدہ اشیاء کی قیمت کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ اور جو خریداران کے ذمہ بصورت قرض واجب الاداء ہے ،اس کی زکوٰۃ نکالنے کاآسان طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی تاریخ میں اپنے پاس موجود سونے، چاندی کی مالیت لگانے کے بعد دکان پر موجود اشیاء کی قیمت فروخت لگائی جائے، اور اس میں اپنے پاس موجود رقم اور قسطوں کی صورت میں لوگوں کے ذمہ واجب الاداء قرض , چاہے وہ سال میں وصول ہو یا کم و بیش مدت میں اس کو جمع کیا جائے، اور پھر اس میں سے اپنے ذمہ لوگوں کا قرض منہا کرنے کے بعد اس کا چالیسواں (یعنی ڈھائی فیصد حصہ بطورِ زکوٰة مستحقین کو دیدیا جائے۔ البتہ جو مقروض بھاگے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی پتہ بھی معلوم نہیں ،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض پر فی الفور زکوٰۃ واجب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفقه الإسلامي وأدلته: زكاة الدين: المال البالغ نصابا والذي هو دين لإنسان في ذمة آخر، وحال عليه الحول، تجب زكاته بشروط مفصلة في المذاهب. قال الحنفية: الدين عند الإمام أبي حنيفة ثلاثة أنواع: قوي، ومتوسط، وضعيف. فالقوي: هو بدل القرض ومال التجارة كثمن العروض التجارية، إذا كان على مقر به ولو مفلسا ، أو على جاحد عليه بينة، تجب فيه الزكاة إذا قبضه، لما مضى من الأعوام، كلما قبض أربعين درهما، ففيه درهم واحد اھ (3/ 192)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 80232کی تصدیق کریں
0     1288
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات