میرے والد کا قرعہ اندازی میں ایک پلاٹ نکلا ہے ،جس کے لئے میں نے تین لاکھ روپے جمع کیا ہے، لیکن اس کی الاٹمنٹ ۲۰۰۸ میں ہوگی، ابھی میں چاہوں تو اس پلاٹ کی پرچی سیل کر سکتا ہوں ،جو کہ تقریباً ١١ لاکھ روپے میں بکے گی، اور الاٹمنٹ کے بعد اس پلاٹ کو سیل کرنے کا ارادہ ہے، براہِ کرم یہ بتائیں کہ میں زکوٰۃ کس اماؤنٹ پر ادا کروں؟
۲: ایک سال پہلے ایک پلاٹ خریدا ،جس کے لئے بلڈر کو ۵۵ لاکھ ادا کیا ، اس وقت اس پلاٹ کو ری سیل کرنے کا ارادہ تھا، اس لئے لاسٹ ایئر اس پر زکوٰۃ ادا کی، لیکن اب اس میں عید تک شفٹ ہونے کا ارادہ ہے، مارکیٹ ویلیو تقریباً ۸۰لاکھ روپے ہیں، کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ اور ہے تو کس اماؤنٹ پر ؟
۳: میرا گھر جو ابھی ہمارے استعمال میں ہے، اس کو سیل کرنے کا ارادہ ہے تو کیا اس پر بھی زکوٰۃ دینی ہے؟
۴: ایک فلیٹ کی بکنگ کروائی ہے اور ۱۵ قسطیں دی ہیں، ارادہ اسے بھی سیل کرنے کا ہیں، اس کی کس اماؤنٹ پر زکوٰۃ دینی ہے؟ جتنی قسطیں دی ہیں ؟ یا اس کی مارکیٹ ویلیو نکلوا کر اس پر دی جائے؟ جزاک اللہ!
(۱) قرعہ اندازی میں نام نکلنے سے خریداری کا معاملہ تام نہیں، البتہ اس طرز ِ عمل سے سائل کے والد کا استحقاق ہو گیا کہ وہ پوری رقم دیکر ضابطہ کے تحت اسکیم میں پلاٹ لینے کا حقدار ہے ،اس لئے معاملہ مکمل ہونے تک اس جمع کرائی ہوئی رقم پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔
(۲) اس فلیٹ میں رہائش اختیار کرنے کی نیت سے وہ اب تجارتی فلیٹ نہیں اس لئے اس پر زکوٰۃ نہیں۔
(۳) مذکور مکان فروخت ہونے کی صورت میں اس سے جو رقم حاصل ہوگی، زکوۃ کی تاریخ میں دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر اس کی بھی زکوة نکالی جائیگی، البتہ فروخت ہونے سے قبل اس کی مالیت میں زکوة واجب نہیں ہوگی۔
(۴) بکنگ کروانے کے بعد پندرہ قسطیں ادا کرنے سے سائل اس فلیٹ کا مالک بن چکا ہے، البتہ بقیہ قسطیں سائل کے ذمہ واجب الادا قرض ہے، لہذا اس فلیٹ کی موجوده پوری مالیت میں سے بقیہ قسطوں کی مقدار منہا کر کے مابقیہ پر زکوٰۃ دینی ہوگی ۔
ففي الدر المختار: (لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها اھ (2/ 272)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: أي عبد) خصه بالذكر ليناسب قوله فنوى خدمته، وأشار بقوله مثلا إلى أن العبد غير قيد، لكن الأولى أن يقول بعده فنوى استعماله ليعم مثل الثوب والدابة، ولا بد من تخصيصه بما تصح فيه نية التجارة ليخرج ما لو اشترى أرضا خراجية، أو عشرية ليتجر فيها فإنها لا تجب زكاة التجارة اھ (2/ 272) ۔
وفي الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) اھ (2/ 259)۔