کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دارالعلوم میں مقیم بچے پڑھتے ہیں نابالغ، اُن پر اگر صدقاتِ واجبہ خرچ کریں، تو اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟کیا وہ خود قبض و قبول کر سکتے ہیں ؟یا ان کے والدین یا دوسرے وارث یا کوئی اجنبی شخص وکیل کی حیثیت سے ؟یا دار العلوم کا مقیم ان کے لئے قبض و قبول کر سکتا ہے؟
اگر ان نا بالغ طلباء کے مستحق اولیاءِ مدرسہ کے مہتمم کو ان کی طرف سے زکوۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کے وصول کرنے کا وکیل بنا دیں ،تو اس صورت میں مقیم کا قبضہ مستحقین کا قبضہ شمار ہو کر دینے والوں کی زکاۃ وغیرہ ادا ہو جا ئے گی، اور اب مہتم صاحب پر لازم ہے کہ وہ امانت اور دیانتداری کے ساتھ ان رقوم کو اصل مصارف میں خرچ کرے۔
في اعلاء السنن: فلا يجوز للوكيل الدفع الى غيره (إلى قوله) فلا يجوز لاھل المدارس دفع ما جاءهم من الصدقات باسم المدرسة إلى من لا علاقة له بها، أو باسم الطلبة إلى من ليس هو منهم فليحفظ ذالك اھ (۱۵ /۳۲۷)۔