زکوۃ و نصاب زکوۃ

نابالغ بچوں کے مدرسہ میں زکوۃ کی تملیک کروانے کا شرعی طریقہ

فتوی نمبر :
80370
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نابالغ بچوں کے مدرسہ میں زکوۃ کی تملیک کروانے کا شرعی طریقہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دارالعلوم میں مقیم بچے پڑھتے ہیں نابالغ، اُن پر اگر صدقاتِ واجبہ خرچ کریں، تو اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟کیا وہ خود قبض و قبول کر سکتے ہیں ؟یا ان کے والدین یا دوسرے وارث یا کوئی اجنبی شخص وکیل کی حیثیت سے ؟یا دار العلوم کا مقیم ان کے لئے قبض و قبول کر سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر ان نا بالغ طلباء کے مستحق اولیاءِ مدرسہ کے مہتمم کو ان کی طرف سے زکوۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کے وصول کرنے کا وکیل بنا دیں ،تو اس صورت میں مقیم کا قبضہ مستحقین کا قبضہ شمار ہو کر دینے والوں کی زکاۃ وغیرہ ادا ہو جا ئے گی، اور اب مہتم صاحب پر لازم ہے کہ وہ امانت اور دیانتداری کے ساتھ ان رقوم کو اصل مصارف میں خرچ کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

في اعلاء السنن: فلا يجوز للوكيل الدفع الى غيره (إلى قوله) فلا يجوز لاھل المدارس دفع ما جاءهم من الصدقات باسم المدرسة إلى من لا علاقة له بها، أو باسم الطلبة إلى من ليس هو منهم فليحفظ ذالك اھ (۱۵ /۳۲۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 80370کی تصدیق کریں
0     883
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات