السلام علیکم!
کیا زکوٰۃ کی رقم سے رمضان میں جو مدرسے کے بچوں کو افطاری کروائی جاتی ہے، اس میں کھجور خریدی جا سکتی ہے؟ اور مدرسے کے سربراہ کو بتا دیا جائے کہ یہ زکوٰۃ کے پیسوں سے خریدی گئی ہے۔ یعنی یہ معلوم نہ ہو کہ افطاری کرنے والے مستحق ہوں گے یا نہیں، اور اساتذہ کے علم میں شاید نہ ہو اور وہ بھی اسے کھا لیں۔ اور اگر کھجور ادنیٰ سے بہتر مہنگی ہو تو وہی رقم لگانا صحیح ہوگا جس پر بازار سے خریدی گئی ہے؟ اور اس طریقے سے کرنا کیا صحیح ہے؟
واضح ہوکہ زکوۃ کی ادائیگی کےلیے نقد رقم کادیناضروری نہیں ، چنانچہ زکوۃکے پیسوں سے راشن ،کھجوریں اوردیگرسامان خریدکرمدرسے میں دینابھی جائزہے ،البتہ اس صورت میں اس بات کااہتمام کرنالازم ہوگاکہ یہ چیزیں بطوراباحت، یعنی محض دسترخوان پرمہیاکردینے کی حدتک نہ ہوں، بلکہ مستحق طلبہ یاان کی جانب سے بطوروکیل مقررکیے گیے مدرسہ کے مہتمم کومالک بناکردی جائیں ،اگرازخوددسترخوان بچھاکرافطارکااہتمام کردیاجائے اورمستحق طلبہ کوباقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ وہ کھجوریں نہ دی گئی ہوں تواس سے زکوٰۃ ادانہ ہوگی ۔
جبکہ کھجور یا سامان کامہنگا یا سستا ہونا ادائیگی زکوۃسےمانع نہیں ، زکوٰۃ کی رقم سے معیاری چیز لینا بھی جائز ہے،لہذاخریدکردی گئی کھجوروں کی مارکیٹ ویلیوکے اعتبارسے اس قدرقم زکوۃ سے منہاکی جاسکتی ہے، تاہم غیرضروری طورپراسراف کی حدتک مہنگی چیزخریدکرزکوۃ کی بیشتررقم کسی ایک ہی مدمیں خرچ کردینے سے فقراء ومستحقین کے نقصان کااندیشہ ہے،اس لیے اس معاملہ میں میانہ روی اختیارکرناپسندیدہ اورمناسب طرزعمل ہے۔
کمافی الدر المختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم، (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) الخ
وفی الرد: تحت (قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه، ولا يخفى أنه يشترط كونه فقيرا، ولا حاجة إلى اشتراط فقر أبيه أيضا لأن الكلام في اليتيم ولا أبا له فافهم (قوله كما لو كساه) أي كما يجزئه لو كساه ح (قوله: بشرط أن يعقل القبض) قيد في الدفع والكسوة كليهما ح. وفسره في الفتح وغيره بالذي لا يرمي به، ولا يخدع عنه، فإن لم يكن عاقلا فقبض عنه أبوه أو وصيه أو من يعوله قريبا أو أجنبيا، أو ملتقطه صح كما في البحر والنهر وعبر بالقبض لأن التمليك في التبرعات لا يحصل إلا به فهو جزء من مفهومه فلذا لم يقيد به أولا كما أشار إليه في البحر تأمل،(کتاب الزکوٰۃ، ج 2، ص 256)-