میں ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہوں، اپنی بیٹی کے گھر میں رہتا ہوں، پینشن سے گزارا ہوتا ہے، کوئی آور آمدنی نہیں، جس مکان میں رہتا ہوں ،اس کا ایک پورشن کرائے پر ہے، اس کا کرایہ بھی میرے پاس آتا ہے، اس کے علاوہ میں نے اپنے بھتیجے کو موبائل کے کاروبار میں تین لاکھ روپے دیے ہوئے ہیں، جس سے وہ کبھی چھ ہزار کبھی سات ہزار جو مقرّر نہیں ہے، منافع میں سے مجھے حصہ دیتا ہے ،میری پینشن، مکان کا کرایہ اور اس منافع سے میرا گزر بسر ہوتا ہے ، مہینے میں میں کچھ بچا لیتا ہوں، میری رہنمائی کی جائے کہ میں زکوۃ کس طرح سے نکالوں؟ میں ہر مہینے 2ہزار روپے زکوۃ کی نیت سے ایک غریب فیملی کو دے دیتا ہوں، جو سال کے 24 ہزار بنتے ہیں۔
واضح ہوکہ زکوۃ ہر اس شخص پر فرض ہے، جو نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی ہی مالیت کی نقدی یا مالِ تجارت کا مالک ہو، یا ان چاروں میں سے بعض یا سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر اس کی ملکیت میں ہو ، اور اس پر سال بھی گزر جائے ،تو ایسے شخص پرسال کے اختتام پر زکوۃ ادا کرنا شرعاًلازم ہوتا ہے ،لہذا سائل کے پاس کاروبار میں لگی ہوئی رقم مبلغ تین لاکھ روپے کے علاوہ کوئی اضافی رقم نہ بچتی ہو، اور اس کے علاوہ سوناچاندی وغیرہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ فقط اس تین لاکھ روپے پرقمری سال مکمل ہونے کی صورت میں ڈھائی فیصدکے حساب سے ادائیگئ زکوۃ لازم ہوگی،جس کی ادائیگی دورانِ سال تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرکے بھی کی جاسکتی ہے،البتہ سال مکمل ہونے کی صورت میں واجب الادا رقم میں سے اگر کچھ باقی ہوتو اس کی ادائیگی لازم ہوگی،ورنہ نہیں ۔
کما فی الفتاوی الشامیۃ:(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب....(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)....قوله: (وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم."كتاب الزكاة ،سبب افتراضها،2 /259+ 262، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع:وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء الخ ،وسواء كان مال التجارة عروضا أو عقارا أو شيئا مما يكالأو يوزن؛ لأن الوجوب في أموال التجارة تعلق بالمعنى وهو المالية والقيمة، وهذه الأموال كلها في هذا المعنى جنس واحد.وكذا يضم بعض أموال التجارة إلى البعض في تكميل النصاب لما قلنا.
[فصل مقدار الواجب من نصاب التجارة](فصل) :وأما مقدار الواجب من هذا النصاب فما هو مقدار الواجب من نصاب الذهب والفضة وهو ربع العشر؛ لأن نصاب مال التجارة مقدر بقيمته من الذهب والفضة فكان الواجب فيه ما هو الواجب في الذهب والفضة وهو ربع العشر، ولقول النبي: - صلى الله عليه وسلم - «هاتوا ربع عشور أموالكم» من غير فصل.
[فصل صفة الواجب في أموال التجارة](فصل) :وأما صفة الواجب في أموال التجارة فالواجب فيها ربع عشر العين وهو النصاب في قول أصحابنا اھ (2/20/21)۔