السلام علیکم!میں نے اپنے بچوں کے نام سے لفافہ بنایا ہے، جس میں اپنے بچوں کی تعلیم اور شادی كے لئے ہر مہینہ کچھ پیسے جمع کرتا ہوں ،جب مجھے ضرورت ہوتی ہے ،تو اس لفافے سے پیسے نکال لیتا ہوں قرض کے طور پر اور جب ضرورت پوری ہوجاتی ہے، تو پیسے واپس لفافے میں رکھ دیتا ہوں ، بچے بالغ ہوکر یہ رقم صرف اپنی تعلیم اور شادی کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ،سال 2017 سے اب تک لی ہوئی قرض کی تفصیل یہ ہے (1) بڑی بیٹی (ابیہہ فاطمہ) عمر 10 سال، اس کی رقم سے میں نے بطورِ قرض دو لاکھ روپے لی ہے،(2) بیٹا (محمد موسی) عمر 8 سال، اس کی رقم سے بھی میں نے بطورِ قرض دو لاکھ روپے لی ہے،(3)چھوٹی بیٹی (رومیسہ فاطمہ) عمر 4 سال، اس کی رقم سے میں نے بطورِ قرض نوّے ہزار روپے لی ہے،ٹوٹل: میں نے کل چارلاکھ نوّے ہزار قرض لیا ہے، میرے سوالات یہ ہیں کہ :اگر مالک میں ہوں، تو مجھے بچوں سے قرض لئے ہوئے مال ( 4 لاکھ 90 ہزار ) پر 2017 سے اب تک ہر سال کی زکوۃ دینی چاہیے اپنے مال سے؟ یا بچے بالغ ہوکر خود زکوۃ ادا کریں گے ؟کیا بچوں کے لئے جمع کی ہوئے اِس مال کا مالک میں ہوں یا بچے؟
واضح ہو کہ نابالغ بچوں کو ہبہ کی ہوئی چیز پر ولی ( والد یا اس کے وصی، اور دادا یا اس کے وصی وغیرہ) کا قبضہ خود بچے ہی کا قبضہ شمار ہوتا ہے، اس لئے والد کی جانب سے نا بالغ بچوں کے لئے ہبہ صرف عقد سے تام ہو جاتا ہے، ان کو قبضہ دینا ضروری نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نےاپنے بچوں کے نام سے رقم لفافہ میں جمع کرا کرہبہ( گفٹ) کر دی ہو، تو مطلق عقد ہی سے شرعاً یہ رقم بچوں کی ملکیت سمجھی جائے گی، لہذا بالغ ہونے سے پہلے اس رقم پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی، نہ والدین پر اور نہ ہی بچوں پر، البتہ بلوغت کے بعد بچوں پر حسب شرائط زکوۃ واجب ہوگی، جبکہ جو رقم سائل نے ان سے قرض کے طور پر لی ہے تو سائل پر اس رقم کا واپس کرنا بھی لازم اور ضروری ہے،جبکہ اس ہبہ کی ہوئی اشیاء سے چونکہ والد کا تصرف مکمل طور پر ختم ہو کر یہ رقم بچوں کی ملکیت بن جاتی ہے، اور نا بالغ بچوں کی اجازت کا اعتبار نہیں ہوتا، اس لئے ان کے بالغ ہونے سے قبل سائل کے لئے اس رقم سے قرض لینے کی بھی شرعاًاجازت نہیں۔
کما فی الھندیۃ: وهبة الأب لطفله تتم بالعقد ولا فرق في ذلك بينما إذا كان في يده أو في يد مودعه الخ ( کتاب الھبۃ،ج 4،ص 416،ط:رشیدیۃ)۔
و فیھا ایضاً:الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثموصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي الخ(، الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج 4،ص 392،ط: رشیدیۃ)۔
و فی قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي «الدر المختار شرح تنوير الأبصار»: وَإِنَّمَا يتم فِي حق الصَّغِير بِدُونِ قبض، لَان هبة الاب لطفله تتمّ بقوله: وهبت لطفلي فلَان كَذَا، وَيقوم مقَام الايجاب وَالْقَبُول وَيَكْفِي فِي قبضهَا بَقَاؤُهَا فِي يَده، لَان الاب هُوَ ولي طِفْله فَيقوم إِيجَابه مقَام إِيجَابه عَن نَفسه، وقبوله لطفله لانه هُوَ الَّذِي يقبل لَهُ وبقاؤها فِي يَده قبض لطفله الخ(کتاب الاقرار،ج 8،ص 234،ر: دار الفکر)۔
و فی الشامیۃ : (وشرط افتراضها عقل وبلوغ ( الی قولہ)(قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها الخ(كتاب الزكاة، ج:2، ص:258، ط: سعيد)۔
وفی الدر المختار: (وهبة من له ولاية على الطفل في الجملة) وهو كل من يعوله فدخل الأخ والعم عند عدم الأب لو في عيالهم (تتم بالعقد) لو الموهوب معلوما وكان في يده أو يد مودعه، لأن قبض الولي ينوب عنه، والأصل أن كل عقد يتولاه الواحد يكتفى فيه بالإيجاب (وإن وهب له أجنبي يتم بقبض وليه) وهو أحد أربعة: الأب،ثم وصيه، ثم الجد، ثم وصيه الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: بالعقد) أي الإيجاب فقط كما يشير إليه الشارح كذا في الهامش، وهذا إذا أعلمه أو أشهد عليه، والإشهاد للتحرز عن الجحود بعد موته والإعلام لازم لأنه بمنزلة القبض بزازية، قال في التتارخانية: فلو أرسل العبد في حاجة أو كان آبقا في دار الإسلام فوهبه من ابنه صحت فلو لم يرجع العبد حتى مات الأب لا يصير ميراثا عن الأب اهـ.(قوله: معلوما) قال محمد - رحمه الله -: كل شيء وهبه لابنه الصغير، وأشهد عليه، وذلك الشيء معلوم في نفسه فهو جائز، والقصد أن يعلم ما وهبه له، والإشهاد ليس بشرط لازم لأن الهبة تتم بالإعلام تتارخانية الخ (کتاب الھبۃ،ج 5، ص 694،ط:سعید)۔
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: وَذَكَرَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ فِي شَرْحِ كِتَابِ الرَّهْنِ أَنَّ لِلْأَبِ أَنْ يَسْتَقْرِضَ مَالَ وَلَدِهِ لِنَفْسِهِ، وَذَكَرَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ فِي شَرْحِهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ، وَذَكَرَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ لَيْسَ لِلْأَبِ أَنْ يَسْتَقْرِضَ مَالَ الصَّغِيرِ مِنْ الْأَجْنَبِيِّ، وَذَكَرَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيُّ فِي الرِّوَايَاتِ الظَّاهِرَةِ لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ، وَفِي الذَّخِيرَةِ وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِي الْأَبِ فِي اخْتِلَافِ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْأَبَ بِمَنْزِلَةِ الْوَصِيِّ لَا بِمَنْزِلَةِ الْقَاضِي(إلی قولہ) وَالتَّصَرُّفُ عَلَيْهِ لَا يَصِحُّ حَتَّى تَمْضِيَ عَلَيْهِ سَنَةٌ مِنْ يَوْمِ صَارَ مَعْتُوهًا الخ(بَابُ الْوَصِيِّ وَمَا يَمْلِكُهُ، ج 8، ص 520، ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
و فی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول أما الوجوب فلقوله تعالى { وآتوا الزكاة } ولقوله صلى الله عليه وسلم أدوا زكاة أموالكم وعليه إجماع الأمة الخ (کتاب الزکاۃ،ج1،ص 96،ط:دار احیاء التراث العربی)۔