میری ایک الیکٹرانکس کی دکان ہے جس میں بلب، فین، وائر اور پلگ وغیرہ سامان موجود ہے۔ ان میں سے ایک قسم کا مال ایسا ہے جو مارکیٹ میں تقریباً فروخت ہی نہیں ہوتا۔ میں نے کئی مرتبہ اس مال کی زکوٰۃ ادا کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں ہر سال اسی طرح اس مال کی زکوٰۃ ادا کرتا رہا تو اس کی نصف قیمت تو زکوٰۃ ہی میں نکل جائے گی۔ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے دارین عطا فرمائے۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے سامانِ تجارت کا بروقت فروخت ہونا ضروری نہیں، بلکہ اگر کوئی چیز تجارت کی نیت سے خریدی گئی ہو اور وہ نیت برقرارہو تو جب تک وہ چیزموجود ہوگی، اس کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کر کے ہر سال اس کی زکوٰۃ دینا شرعاً لازم ہے، چاہے وہ فوراً فروخت نہ ہو سکے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور سامان چونکہ تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہے، اس لیے جب تک سائل کی نیت برقرار ہوتواس کی فروختگی میں تاخیر کے باوجود ہر سال اس پر زکوٰۃ ادا کرنا سائل کے ذمے لازم ہے، اور اس میں کوتاہی کرنا شرعاً جائز نہیں۔
کما فی الهداية في شرح بداية المبتدي: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب " لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد الخ(1/ 103)